مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

اسلام آباد، راولپنڈی اور خیبر پختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے

زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت 4.9 تھی اور اس کا مرکز 193 کلومیٹر گہرائی میں ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں تھا، جبکہ کسی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
اسلام آباد، راولپنڈی اور خیبر پختونخوا میں زلزلے کے جھٹکے

منگل کی شام اسلام آباد، راولپنڈی اور خیبر پختونخوا کے کئی اضلاع میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ زلزلہ پیما مرکز کے مطابق زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 4.9 تھی اور اس کا مرکز ہندوکش کے پہاڑی سلسلے میں 193 کلومیٹر گہرائی میں تھا۔ اسلام آباد اور راولپنڈی میں یہ جھٹکے شام 4 بج کر 30 منٹ کے قریب محسوس کیے گئے۔

زلزلہ پیما مرکز نے بتایا کہ پشاور، سوات، بونیر اور شانگلہ کے علاوہ مہمند اور شبقدر میں بھی زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے۔ مرکز کے مطابق ملک کے دیگر علاقوں سے بھی جھٹکوں کی اطلاعات موصول ہوئیں، تاہم متاثرہ علاقوں کی مکمل فہرست جاری نہیں کی گئی۔

زلزلہ 22 ستمبر کو ریکارڈ کیا گیا اور اس کی شدت 4.9 تصدیق کی گئی۔ 193 کلومیٹر کی گہرائی کا مطلب ہے کہ زلزلہ سطح زمین سے کافی نیچے پیدا ہوا، اور ہندوکش میں اس کا مرکز ہونے کی وجہ سے جھٹکے پاکستان اور افغانستان کے درمیان پہاڑی علاقے سے منسلک تھے۔

حکام کی جانب سے ابتدائی معلومات میں کسی جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں دی گئی۔ زلزلہ پیما مرکز نے کہا کہ متاثرہ اضلاع میں حکام کی جانب سے مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

متاثرہ علاقوں میں وفاقی دارالحکومت کا علاقہ اور خیبر پختونخوا کے متعدد شہری اور دیہی علاقے شامل ہیں۔ پشاور اور سوات کے رہائشیوں کے ساتھ ساتھ بونیر اور شانگلہ جیسے چھوٹے قصبوں کے لوگوں نے زمین میں چند سیکنڈ کے لیے لرزش محسوس کی۔

زلزلے کے جھٹکے ایک ہی شام ملک کے مختلف حصوں میں محسوس کیے گئے، جن میں اسلام آباد اور راولپنڈی سب سے پہلے رپورٹ کرنے والوں میں شامل تھے۔ خیبر پختونخوا اور افغان سرحد کے قریب واقع مہمند اور شبقدر بھی متاثر ہوئے۔

زلزلہ پیما مرکز نے اپنی ابتدائی رپورٹ میں شدت، گہرائی، مرکز اور متاثرہ مقامات کی تفصیلات فراہم کی ہیں۔ مرکز نے سونامی یا کسی اور قسم کا کوئی انتباہ جاری نہیں کیا، اور نہ ہی آفٹر شاکس کا کوئی اشارہ دیا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔