ایشیائی ترقیاتی بینک: ترقی پذیر ایشیا کی نمو 2026 میں 5 فیصد رہے گی
بینک کی ستمبر 2026 کی رپورٹ میں 2026 کی شرح نمو 0.1 فیصد پوائنٹ بہتر کی گئی اور افراط زر کی پیش گوئی کم کی گئی۔

اسلام آباد: ایشیائی ترقیاتی بینک نے بدھ کو کہا کہ ترقی پذیر ایشیا اور بحر الکاہل کی اقتصادی شرح نمو 2026 میں کم ہو کر 5 فیصد رہ جائے گی جو 2025 میں 5.5 فیصد تھی، اور 2027 میں معمولی بہتری کے ساتھ 5.1 فیصد تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ تخمینے بینک کے ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک ستمبر 2026 میں جاری کیے گئے، ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے رپورٹ کیا۔
بینک نے اپنی 2026 کی شرح نمو کی پیش گوئی میں 0.1 فیصد پوائنٹ کا اضافہ کیا، جس کا مطلب ہے کہ بینک اب رواں سال خطے کی نمو اپنے پچھلے تخمینے سے قدرے بہتر دیکھ رہا ہے، لیکن یہ شرح 2025 کی 5.5 فیصد سے 0.5 فیصد پوائنٹ کم ہے۔ رپورٹ میں رواں سال کے لیے خطے کی افراط زر کی پیش گوئی بھی کم کر دی گئی، البتہ اے پی پی کی رپورٹ میں افراط زر کا نیا تخمینہ نہیں دیا گیا۔
یہ تخمینے ترقی پذیر ایشیا اور بحر الکاہل کی 46 معیشتوں کا احاطہ کرتے ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔ اے پی پی کی رپورٹ میں پاکستان کے لیے علیحدہ شرح نمو یا افراط زر کے اعداد و شمار نہیں دیے گئے، تاہم ملکی کارکردگی علاقائی مجموعی کا حصہ ہے۔ پاکستان ایشیائی ترقیاتی بینک کا رکن ہے اور بینک سے سڑکوں، توانائی، پانی اور سماجی شعبے کے منصوبوں کے لیے قرضے حاصل کرتا ہے۔
بینک نے کہا کہ خطے کی نمو میں کمی کے باوجود یہ مستحکم رہے گی۔ ستمبر کی پیش گوئی بینک کی جانب سے سال میں دو بار جاری کیے جانے والے اہم تخمینوں میں سے ایک ہے، اپریل کی اشاعت میں ابتدائی تخمینے دیے جاتے ہیں اور ستمبر کی اشاعت ان پر نظر ثانی کرتی ہے۔
پاکستان میں ان اعداد و شمار پر گہری نظر رکھی جاتی ہے کیونکہ حکومت بینک کے علاقائی تخمینوں کو اپنی منصوبہ بندی میں استعمال کرتی ہے اور کاروباری ادارے اور تجزیہ کار بیرونی طلب اور مالی حالات کا جائزہ لیتے ہیں۔ بینک کی ابتدائی اے پی پی رپورٹ میں پاکستان کی معیشت کا علیحدہ جائزہ شامل نہیں تھا اور نہ ہی ملک کے لیے کوئی انفرادی اعداد و شمار دیے گئے۔ ایشین ڈیولپمنٹ آؤٹ لک بینک کی اہم اقتصادی اشاعت ہے جو رکن ترقی پذیر معیشتوں کی جی ڈی پی، افراط زر اور خطرات کا احاطہ کرتی ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔