مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

افغان پائلٹ 1984 میں طیارہ لے کر میران شاہ پہنچا

سوویت ساختہ انٹونوف اے این 26 کو بعد ازاں پاک فضائیہ کے عملے نے میراج طیاروں کی نگرانی میں مسرور ایئربیس منتقل کیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
افغان پائلٹ 1984 میں طیارہ لے کر میران شاہ پہنچا
Combat & Aviation History Of Pakistan

بی بی سی اردو کے مطابق 22 ستمبر 1984 کو افغانستان سے اڑنے والا ایک فوجی ٹرانسپورٹ طیارہ پاکستانی سرحد عبور کر کے شمالی وزیرستان کے میران شاہ ایئربیس پر اترا۔ سوویت ساختہ اینٹونوف اے این 26 طیارہ افغان فضائیہ کے کرنل حاجی فقیر احمد اڑا رہے تھے۔ یہ واقعہ سوویت حمایت یافتہ کابل حکومت سے فرار ہو کر پاکستان آنے والے افغان فوجی اہلکاروں اور طیاروں کے سلسلے کا حصہ تھا۔

بی بی سی اردو کی رپورٹ کے مطابق سی آئی اے کی 23 مارچ 1979 کی منظر عام پر آنے والی خصوصی تجزیاتی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغان فوج میں انحراف اور بے دلی کا آغاز سوویت افواج کی آمد سے پہلے ہو چکا تھا۔ انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے حوالے سے بتایا گیا کہ افغان فوج کی نفری 1978 میں ایک لاکھ پانچ ہزار تھی جو 1987 تک گھٹ کر 20 سے 30 ہزار رہ گئی۔ ٹائم میگزین نے جنوری 1980 میں لکھا کہ بڑے پیمانے پر فرار کے باعث افغان فوج 65 ہزار سے کم رہ گئی تھی۔

بی بی سی اردو نے ٹائم کے ایک اور حوالے سے بتایا کہ اپریل 1985 میں تین افغان فوجی فرار ہو کر پاکستان پہنچے تو ایک سوویت بکتر بند گاڑی سفید جھنڈا لہرا کر طورخم پہنچی اور ان کی واپسی کا مطالبہ کیا۔ پاکستان نے انکار کیا تو دو روز تک 80 توپ کے گولے داغے گئے اور تیسرے روز پاکستان نے فوجی واپس کر دیے۔

پاک فضائیہ کے رسالے سیکنڈ ٹو نن میں شائع ہونے والی یادداشت میں ایئر کموڈور خالد کمال نے طیارے کی منتقلی کی کارروائی بیان کی۔ انہوں نے لکھا کہ ونگ کمانڈر غفور اور سکواڈرن لیڈر ذوالفقار نے مشن کی منصوبہ بندی کی اور وہ بطور معاون پائلٹ رضاکارانہ طور پر شامل ہوئے۔ غفور نے انہیں خبردار کیا کہ مشن انتہائی خطرناک ہے اور جیسے ہی طیارہ میران شاہ سے اڑے گا روسی اسے مار گرانے کی کوشش کریں گے۔

خالد کمال کے مطابق افغان کپتان پہلے اپنے اہل خانہ کو پاکستان بھیج چکا تھا اور خود سیاسی پناہ کے لیے آیا تھا۔ اس کا معاون پائلٹ اس فیصلے پر ناراض تھا کیونکہ اسے منصوبے کا پہلے علم نہیں ہوا تھا۔ پاک فضائیہ کے عملے نے افغان پائلٹوں سے افسران کے میس میں ملاقات کی۔ ٹیک آف سے پہلے افغان کپتان نے انجن اسٹارٹ کرنے میں مدد کی لیکن اسے بتایا گیا کہ وہ پرواز میں ساتھ نہیں جائے گا۔ وہ شدید برہم ہوا اور اسے زبردستی اتارا گیا۔ جاتے ہوئے اس نے فلائٹ انجینئر کے پینل پر ایک سوئچ تبدیل کر دیا جس پر عملے کی نظر نہیں پڑی۔

پاکستانی عملے نے وادی میں انتہائی کم بلندی پر پرواز کی تاکہ روسی لڑاکا طیاروں سے بچا جا سکے۔ پاک فضائیہ کے میراج طیارے زیگ زیگ انداز میں ان کی حفاظت کرتے رہے۔ طیارہ پی اے ایف بیس مسرور پہنچایا گیا جہاں لینڈنگ کے دوران عقبی ریمپ کھل کر زمین سے گھسٹنے لگا، جس کی وجہ افغان کپتان کا تبدیل کیا گیا سوئچ تھا۔ بعد ازاں طیارے کو پاکستانی نشانات اور جے 754 رجسٹریشن دی گئی، نمبر 12 سکواڈرن میں استعمال کیا گیا اور آخر کار کراچی کے پی اے ایف میوزیم میں رکھ دیا گیا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔