مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

حکومت اور جماعت اسلامی کی ریلیف کیلئے مشترکہ کمیٹی پر اتفاق

احسن اقبال کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی بندش اور ایران امریکہ جنگ سے تیل و گیس کی رسد متاثر ہوئی، آئندہ دو سے تین ماہ میں قیمتوں کے اضافے کی رفتار کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
حکومت اور جماعت اسلامی کی ریلیف کیلئے مشترکہ کمیٹی پر اتفاق

وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے منگل کے روز کہا ہے کہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ آئندہ دو سے تین ماہ میں تیل کی قیمتیں کس رفتار سے بڑھیں گی، جبکہ حکومت اور جماعت اسلامی نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔

اسلام آباد میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنا اللہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ پوری دنیا ہنگامی صورت حال کا سامنا کر رہی ہے اور خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی بحران پیدا ہوا ہے جس سے تیل اور گیس کی رسد متاثر ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش سے تیل کی ترسیل متاثر ہو رہی ہے جبکہ ایران اور امریکہ کی جنگ کے نتیجے میں گیس کی رسد بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

ان کے مطابق عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور ایسے حالات معیشت کے لیے بھی مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ حکومت کو اندازہ ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے عام شہری کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، اسی لیے وزیراعظم نے پیٹرول ریلیف اسکیم شروع کی ہے۔

احسن اقبال نے کہا کہ آئندہ دو سے تین ماہ میں قیمتوں میں اضافے کی رفتار کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور توانائی کی قیمتوں اور رسد کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کوئی غیر ذمہ دارانہ اقدام نہیں کرنا چاہتی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے مختلف تجاویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ جماعت اسلامی کے وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی جس میں وفد کو حکومت کو درپیش مشکلات سے آگاہ کیا گیا اور جماعت اسلامی کے نمائندوں نے بھی عوام کو ریلیف دینے کے لیے اپنی تجاویز پیش کیں۔ دونوں فریقین نے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے پر اتفاق کیا جس میں حکومت اور جماعت اسلامی کے تین تین نمائندے شامل ہوں گے، کمیٹی تمام تجاویز پر غور کرکے انہیں حتمی شکل دے گی۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی آئندہ بجٹ میں لیوی کے خاتمے سے متعلق تجاویز پر بھی غور کرے گی۔

احسن اقبال نے کہا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے سفارتی عمل شروع کیا ہے جس کا مقصد خطے میں کشیدگی ختم کرنا اور حالات بہتر بنانا ہے تاکہ تیل کی قیمتوں میں کمی ممکن ہو سکے۔

اسی موقع پر رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اس وقت ملک میں ایک کروڑ 27 لاکھ افراد کو پیٹرول پر فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جا رہی ہے جبکہ آنے والے دنوں میں یہ تعداد دو کروڑ تک پہنچنے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس لیوی پر اعتراض کیا جا رہا ہے وہ 80 روپے ہے۔

وزیراعظم کے مشیر نے کہا کہ حکومت جماعت اسلامی کی اس سوچ کی قدر کرتی ہے کہ عام آدمی کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملنا چاہیے، حکومت نے اس کی تجاویز سنی ہیں اور ان پر خلوص نیت سے غور کیا جائے گا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جماعت اسلامی نازک صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومتی کوششوں میں ساتھ دے گی۔ رانا ثنا اللہ نے یہ بھی کہا کہ جنگ نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے، پاکستان امن کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور ملک کے اندر مکمل یکجہتی ہونی چاہیے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستان نے امت مسلمہ کو آپس میں لڑانے کی صیہونی سازش ناکام بنائی ہے۔

اردو پوائنٹ کے مطابق احسن اقبال نے اسی موقع پر کہا کہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے اور پاکستان کو ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے اور قومی ترقی کے لیے اس کی ضرورت ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔