خواجہ آصف کا جواب: یہ دفاعی وزارت کا معاملہ نہیں
وزیر دفاع کا یہ بیان تهران میں مکہ ڈیفنس الائنس کے اجلاس میں ان کی عدم شرکت پر مولانا فضل الرحمان کی تنقید کے بعد سامنے آیا۔

وزیر دفاع خواجہ آصف نے جمعرات کو کہا کہ تهران میں ہونے والے اجلاس میں ان کی عدم شرکت پر اٹھایا گیا سوال "دفاعی وزارت کا کام نہیں"، یہ بیان جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی تنقید کے بعد سامنے آیا۔ ڈان نے یہ رپورٹ دی۔
ڈان کے مطابق تهران کے اس اجلاس میں مکہ ڈیفنس الائنس کے رکن ممالک کے حکام شریک ہوئے۔ ان میں سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ ابراہیم کالن شامل تھے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری محسن رضائی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
ڈان کی رپورٹ کے مطابق خواجہ آصف کا جواب مولانا فضل الرحمان کے اس بیان کے بعد آیا جس میں انہوں نے تهران کے اجلاس میں وزیر دفاع کی عدم شرکت پر تنقید کی۔ ادھر ڈیلی اوساف نے بتایا کہ قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ نے خواجہ آصف کے ایک مشہور جملے کو انہی کے خلاف استعمال کیا۔
دستیاب رپورٹوں میں تهران کے اجلاس کی تاریخ، ایجنڈے، وہاں کیے گئے فیصلوں یا خواجہ آصف کے جواب کا مکمل متن شامل نہیں ہے، صرف یہ بتایا گیا ہے کہ ان کا موقف یہ تھا کہ یہ معاملہ ان کی وزارت کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کے استعمال کردہ الفاظ بھی شائع شدہ رپورٹ میں نہیں دیے گئے۔
ڈان کے مطابق مکہ ڈیفنس الائنس وہی گروپنگ ہے جس کے رکن ممالک کے حکام تهران میں اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ پاکستان کی نمائندگی چیف آف آرمی اسٹاف اور چیف آف ڈیفنس فورسز کی حیثیت سے فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کی، جو سعودی وزیر دفاع اور ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ کے ساتھ اس اجلاس میں موجود تھے۔
خواجہ آصف وفاقی وزیر دفاع ہیں جبکہ مولانا فضل الرحمان جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ ہیں۔ دونوں رپورٹوں سے یہ واضح نہیں ہوتا کہ حکومت نے وزارت دفاع اور فوجی کمان کے درمیان ذمہ داریوں کی تقسیم کا کوئی جائزہ لینے کا حکم دیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔