کابینہ کمیٹی نے ڈیجیٹل والٹ کمپنی کے چار آزاد ڈائریکٹرز کی منظوری دی
کمیٹی نے پاکستان اسٹیٹ آئل کے بورڈ میں دو آزاد ارکان کی نامزدگی بھی منظور کی، جبکہ فارما ایکسپورٹ کونسل کی تجویز مزید مشاورت کے لیے موخر کر دی۔

اسلام آباد: کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے (CCoSOEs) نے سوموار کو ہونے والے اجلاس میں اسٹرٹیجک ڈیجیٹل والٹ کمپنی کے بورڈ میں چار آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کی منظوری دی ہے۔ یہ کمپنی پاکستان کے خودمختار ورچوئل اثاثوں کے انتظام، ان کی حفاظت اور نگہداشت کے لیے قائم کی گئی ہے۔
وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے مطابق یہ سمری وزارت خزانہ نے پیش کی، جسے کمیٹی نے منظور کیا۔ اجلاس وزارت خزانہ میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں ہوا، جس میں وفاقی وزیر بحری امور محمد جنید انور چوہدری بھی شریک ہوئے۔ بیان میں چاروں ڈائریکٹرز کے نام نہیں بتائے گئے۔ بزنس ریکارڈر نے یہ خبر سب سے پہلے شائع کی۔
کمیٹی نے پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے پیش کردہ سمری بھی منظور کی، جس کے تحت پاکستان اسٹیٹ آئل کمپنی لمیٹڈ کی بورڈ آف مینجمنٹ میں ایک خاتون آزاد ڈائریکٹر نامزد کی گئیں۔ اسی سمری کے تحت بورڈ آف مینجمنٹ میں ایک اور آزاد رکن کی نامزدگی بھی منظور ہوئی۔ یہ تقرریاں بورڈ کی تشکیلِ نو کے سلسلے میں کی گئی ہیں، کیونکہ اس کی سابقہ قانونی مدت پوری ہو چکی تھی۔
وزارت تجارت کی جانب سے پاکستان فارما ایکسپورٹ پروموشن کونسل کو کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت سیکشن 42 کی کمپنی کے طور پر قائم کرنے کی تجویز موخر کر دی گئی۔ یہ کونسل ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان کے انتظامی کنٹرول میں کام کرنی تھی۔ کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ وہ متعلقہ اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مزید مشاورت کرے اور اس کے بعد یہ تجویز دوبارہ غور کے لیے پیش کرے۔
کمیٹی نے وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی رابطہ کاری کی سمری بھی منظور کی، جس کے تحت پاکستان انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی کے ماتحت کلین انوائرنمنٹ فنڈ کمپنی کو دو ایکس آفیشیو اور تین آزاد ڈائریکٹرز کی تقرری کے ذریعے فعال کیا جائے گا۔ بیان کے مطابق اس کمپنی کا مقصد ماحولیاتی تحفظ، بحالی اور بہتری کے لیے وسائل کی فراہمی اور ان کے استعمال کو ممکن بنانا ہے۔
یہ فیصلے تین ریاستی اداروں میں تقرریوں اور تنظیمِ نو سے متعلق ہیں، کسی نئی مالی سرمایہ کاری کا اعلان نہیں کیا گیا اور بیانات میں مالی تفصیلات بھی ظاہر نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ بزنس ریکارڈر کی شائع کردہ سرخی میں منظوری دینے والے ادارے کو ای سی سی کہا گیا، تاہم اسی کی رپورٹ اور ٹیک جوس کی الگ رپورٹ دونوں میں اجلاس کو کابینہ کمیٹی برائے سرکاری ادارے کا اجلاس قرار دیا گیا ہے، جس کی صدارت وزیر خزانہ کر رہے تھے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی ایک تصویری کیپشن میں نیشنل پرائیویٹ ایکویٹی فریم ورک سے متعلق الگ اجلاس کا ذکر ہے، جو بھی سینیٹر اورنگزیب کی صدارت میں ہوا، اور اس کا اس اجلاس سے تعلق نہیں۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔