پاما کا گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر نظرثانی کا مطالبہ
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن نے ہارون اختر کو لکھے خط میں کہا ہے کہ مئی میں 7 گاڑیوں سے بڑھ کر ستمبر میں 2,238 گاڑیاں درآمد ہوئیں، جس سے مقامی مینوفیکچرنگ متاثر ہو رہی ہے۔
پاکستان آٹوموٹیو مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاما) نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کی اجازت پر نظرثانی کی جائے، کیونکہ اس اسکیم کا غلط استعمال مقامی گاڑی سازی کو نقصان پہنچا رہا ہے۔ یہ خبر ایکسپریس نیوز نے شائع کی۔
پاما کے ڈائریکٹر جنرل رضی الرحمٰن نے وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان کو لکھے گئے خط میں حکومت پر زور دیا کہ ایسی پالیسیوں پر بھی نظرثانی کی جائے جو استعمال شدہ گاڑیوں کی ضرورت سے زیادہ درآمدات کی حوصلہ افزائی کرتی ہیں۔ ایسوسی ایشن نے الگ سے وزارتِ تجارت سے بھی مطالبہ کیا کہ اسکیم کا فوری جائزہ لیا جائے اور اس کے غلط استعمال کے خلاف مؤثر حفاظتی اقدامات کیے جائیں۔ خط کے مطابق درآمدات سے متعلق تمام اقدامات پاکستان کے صنعتی ترقی کے اہداف کے مطابق ہونے چاہئیں۔
خط کے مطابق رواں سال گفٹ اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ مئی 2026 میں اس اسکیم کے تحت 7 گاڑیاں درآمد کی گئیں، جون میں یہ تعداد 806، جولائی میں 1,876، اگست میں 1,406 اور ستمبر میں 2,238 ہو گئی۔ خط کے مطابق اسی عرصے میں ٹرانسفر آف ریزیڈنس اسکیم کے تحت درآمدات نہ ہونے کے برابر رہیں۔ ستمبر 2026 میں استعمال شدہ گاڑیوں کی مجموعی درآمدات میں گفٹ اسکیم کا حصہ تقریباً 98 فیصد رہا۔
رضی الرحمٰن نے کہا کہ پاما بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو حقیقی سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کی حمایت کرتی ہے، تاہم درآمدات میں اس غیر معمولی اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسکیم کو اس کے اصل مقصد سے ہٹ کر استعمال کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی آٹو موبائل صنعت نے مقامی مینوفیکچرنگ کی صلاحیتیں قائم کرنے اور پرزہ جات کی مقامی تیاری بڑھانے کے لیے ایک ہزار ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کی ہے۔ ملک میں 13 مینوفیکچرنگ پلانٹس 31 سے زائد برانڈز اور 100 سے زیادہ ماڈلز تیار کر رہے ہیں، جبکہ گاڑیوں کے متعدد شعبوں میں مقامی پرزہ جات کا تناسب تقریباً 60 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔
خط میں خبردار کیا گیا کہ ذاتی استعمال کے لیے متعارف کرائی گئی اسکیموں کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی مسلسل بڑھتی ہوئی درآمدات مقامی سرمایہ کاری کو خطرے میں ڈال رہی ہیں اور صنعتی ترقی اور درآمدات کے متبادل کے طور پر مقامی پیداوار بڑھانے کے حکومتی اہداف کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
پاما نے نیشنل ٹیرف پالیسی کے تحت حالیہ ٹیرف اصلاحات پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ ایسوسی ایشن کے مطابق درآمدی ڈیوٹیوں میں نمایاں کمی، مکمل تیار شدہ استعمال شدہ گاڑیوں پر 60 فیصد تک فرسودگی کی رعایت اور درآمدات مزید آزاد کرنے کی تجاویز مقامی صنعت کے لیے مسابقتی گنجائش کو محدود کر رہی ہیں۔ ان اقدامات سے مقامی مینوفیکچرنگ، ٹیکنالوجی کی منتقلی، روزگار اور مستقبل کی سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی ہوتی ہے۔
رضی الرحمٰن نے کہا کہ چند ماہ کے اندر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کا رجحان بیگیج اسکیم سے تقریباً مکمل طور پر گفٹ اسکیم کی جانب منتقل ہونا اس بات پر سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے کہ بیرونِ ملک ان گاڑیوں کی سرٹیفکیشن اور منظوری کا طریقہ کار کیسے کام کر رہا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ سرٹیفکیشن، تصدیق اور نگرانی کے موجودہ نظام کا جامع جائزہ لیا جائے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ گفٹ اسکیم اپنے طے شدہ مقاصد کے مطابق استعمال ہو رہی ہے اور اسے تجارتی بنیادوں پر گاڑیوں کی خرید و فروخت کے ذریعے کے طور پر استعمال نہ کیا جائے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔