سی بی ڈی پنجاب نے پروفیشنل انٹرن شپس کے لیے درخواستیں طلب کر لیں
یوتھ کیریئر پروگرام 2026 کے تحت دس محکموں میں پروفیشنل انٹرن شپس دی جائیں گی، آن لائن درخواستوں کی آخری تاریخ 12 اکتوبر ہے۔

پنجاب سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی بی ڈی پنجاب) نے یوتھ کیریئر پروگرام 2026 کے لیے درخواستیں طلب کر لی ہیں۔ اس پروگرام کے تحت دس مختلف محکموں میں پروفیشنل انٹرن شپس دی جائیں گی۔ عملی تجربہ حاصل کرنے کے خواہشمند نوجوان پیشہ ور افراد 12 اکتوبر 2026 تک آن لائن درخواست دے سکتے ہیں۔
پروگرام میں ٹیکنیکل، کمرشل، جی آئی ایس، فنانس، لیگل، لینڈ اینڈ اسٹیٹ، ایچ آر اینڈ آئی ٹی، آپریشنز، پروکیورمنٹ اور آڈٹ کے شعبے شامل ہیں۔ اتھارٹی کے مطابق امیدوار اپنی تعلیمی قابلیت اور کیریئر کی دلچسپی کے مطابق شعبے کا انتخاب کر سکتے ہیں۔
سرکاری اشتہار کے مطابق ٹیکنیکل اور جی آئی ایس کے شعبے انجینئرنگ، پلاننگ یا جیوگرافک انفارمیشن سسٹمز میں دلچسپی رکھنے والے امیدواروں کے لیے موزوں ہیں۔ کاروباری شعبوں سے وابستہ طلبہ اور گریجویٹس کمرشل، فنانس اور پروکیورمنٹ کے شعبوں میں درخواست دے سکتے ہیں۔ لیگل، لینڈ اینڈ اسٹیٹ، ایچ آر اینڈ آئی ٹی، آپریشنز اور آڈٹ کے محکمے بھی فہرست میں شامل ہیں۔
اشتہار میں انفرادی انٹرن شپ کے شعبوں کے لیے تفصیلی تعلیمی قابلیت، عمر کی حد یا تجربے کی شرائط فراہم نہیں کی گئیں۔ امیدواروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ درخواست جمع کرانے سے پہلے سی بی ڈی پنجاب کی ویب سائٹ پر اہلیت اور انتخاب کے معیار کا جائزہ لیں۔
درخواست دہندگان کو مطلوبہ معلومات کے ساتھ آن لائن فارم مکمل کرکے آخری تاریخ سے پہلے جمع کرانا ہوگا۔ درخواستوں کی آخری تاریخ 12 اکتوبر 2026 ہے۔

پنجاب کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی کیو آر پینک بٹن نصب
اسپتال میں کوڈ اسکین کرنے پر مریض ہیلپ لائن 15، لائیو چیٹ یا ویڈیو کال کے ذریعے سیف سٹی سے رابطہ کر سکتا ہے اور ورچوئل بلڈ بینک سے مدد لے سکتا ہے۔

فخر زمان کی 127 رنز کی بدولت پاکستان سہ ملکی سیریز کا فاتح
پاکستان نے لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں 326 رنز کا ہدف 48.3 اوورز میں سات وکٹوں کے نقصان پر مکمل کیا، جبکہ ابتدائی چار اوورز میں دو وکٹیں گر گئی تھیں۔

سیالکوٹ میں مہندی کی تقریب میں بھگدڑ، ایک ہلاک، 14 سے زائد زخمی
ڈسکہ روڈ پر فراز کرکٹ گراؤنڈ کے دروازے کھلتے ہی افراتفری پھیلی، جہاں ٹک ٹاکر محمد انصار جٹ 50 موٹر سائیکل، ایک گاڑی اور نقد انعامات دینے والے تھے۔

پنجاب اسمبلی کے اسپیکر نے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی مسترد کر دی
ملک محمد احمد خان کا کہنا ہے کہ معاہدے کی حیثیت بین الاقوامی قانون کے تحت طے ہونی چاہیے، جبکہ اٹارنی جنرل نے بھارت کے خلاف قانونی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔