حکومت اگلی دہائی میں آبی ڈھانچے پر 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گی
دو پاکستانی اداروں نے یہ منصوبہ رپورٹ کیا، مگر کسی رپورٹ میں منصوبوں کی فہرست، مالیاتی ذرائع یا کسی عہدیدار کا نام موجود نہیں۔
اسلام آباد: وفاقی حکومت اگلے دس سال کے دوران اسٹریٹجک آبی ڈھانچے کی تعمیر پر 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا منصوبہ بنا رہی ہے، یہ بات دو پاکستانی میڈیا اداروں نے منگل کو اپنی رپورٹس میں بتائی۔
پروفٹ بائے پاکستان ٹوڈے نے یہ خبر اس عنوان سے دی کہ پاکستان آبی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے 18 ارب ڈالر حاصل کرنا چاہتا ہے۔ دی نیوز انٹرنیشنل نے لکھا کہ مرکز اگلی دہائی میں اسٹریٹجک آبی ڈھانچے پر 18 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتا ہے۔
دونوں رپورٹس میں رقم کو ایک ہی انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ پروفٹ کے عنوان میں حکومت کو یہ رقم حاصل کرنے کی کوشش کرنے والے کے طور پر دکھایا گیا، جبکہ دی نیوز نے اسے مرکز کی طے شدہ سرمایہ کاری قرار دیا۔ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ 18 ارب ڈالر پہلے سے مختص رقم ہے، بیرونی مالیاتی اداروں سے حاصل کی جانی ہے، یا ایسی تجاویز کا حصہ ہے جن پر ابھی بات چیت جاری ہے۔
اس اخبار کو دستیاب رپورٹس میں کسی عہدیدار یا محکمے کا نام نہیں دیا گیا، یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ رقم کون سے منصوبوں پر خرچ ہوگی یا دس سالہ مدت کب شروع ہوگی۔ یہ وضاحت بھی موجود نہیں کہ رقم ڈیموں کی تعمیر، نہروں کی پختہ کاری، آبپاشی کی نالیوں، شہری سپلائی نظام یا ان سب پر مشتمل منصوبوں کے لیے ہے۔
پاکستان میں آبی تحفظ وفاقی پالیسی مباحث کا مستقل موضوع رہا ہے اور بڑے مالی اعلانات اکثر مالیاتی ذرائع اور منصوبوں کی حتمی فہرست طے ہونے سے پہلے کیے جاتے ہیں۔ تفصیلات شائع نہ ہونے کی صورت میں 18 ارب ڈالر کے اعداد و شمار کی کسی بجٹ دستاویز یا قرض دہندگان کی فہرست سے تصدیق ممکن نہیں۔
سکردو ٹائمز آزادانہ طور پر رقم، مدت یا مالیاتی ذرائع کی تصدیق نہیں کر سکتا۔ قارئین اسے انہی دو اداروں کی رپورٹ کے طور پر دیکھیں، حکومت کی حتمی ذمہ داری کے طور پر نہیں، جب تک سرکاری تفصیلات شائع نہ ہوں۔
اگر حکومت منصوبوں کی فہرست، مالیاتی منصوبہ یا متعلقہ عہدیداروں کے نام ظاہر کرتی ہے تو یہ خبر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔