مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

پاکستان میں مذہبی رہنما پر توہین مذہب بلیک میلنگ گروہ کو تحفظ دینے کا الزام

دی انڈین ایکسپریس اور دی ٹیلی گراف کے مطابق آرچ بشپ سے اعزاز پانے والے مذہبی رہنما کا تعلق بھتہ خوری کے ایسے گروہ سے ہے جو توہین مذہب کے الزامات استعمال کرتا ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ

پاکستان میں ایک مذہبی رہنما پر الزام ہے کہ انہوں نے بلیسفیمی (توہین مذہب) کے الزامات کو بلیک میلنگ کے لیے استعمال کرنے والے گروہ کو تحفظ فراہم کیا۔ دی انڈین ایکسپریس اور دی ٹیلی گراف کی رپورٹوں کے مطابق اس مذہبی رہنما کو اس سے قبل ایک آرچ بشپ نے اعزاز سے نوازا تھا۔

دونوں اخبارات نے مذہبی رہنما کا نام ظاہر نہیں کیا، نہ ہی یہ بتایا کہ آرچ بشپ کون تھے یا پاکستان میں یہ واقعات کہاں پیش آئے۔ دی انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ مذہبی رہنما پر توہین مذہب کے الزامات کی بنیاد پر بلیک میلنگ کرنے والے گروہ کو پناہ دینے کا الزام ہے۔ دی ٹیلی گراف نے قدرے محتاط انداز میں کہا کہ یہ مذہبی رہنما ایک بھتہ خور گروہ سے منسلک تھے۔

سکردو ٹائمز ان دعووں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کر سکا۔ رپورٹیں فائل کیے جانے تک پاکستانی حکام یا کسی مذہبی ادارے کی طرف سے کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا تھا۔

پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین انتہائی سخت ہیں اور ان کے تحت سزائیں جرمانے اور قید سے لے کر سزائے موت تک ہو سکتی ہیں۔ صرف الزام لگنے پر بھی ہجوم کا تشدد عام ہے، جب کہ سزائیں کم ہی ہوتی ہیں لیکن الزامات بکثرت لگتے ہیں۔

انسانی حقوق کے ادارے اور قانونی ماہرین بارہا دستاویزی شکل دے چکے ہیں کہ توہین مذہب کے مقدمات ذاتی جھگڑوں، جائیداد پر قبضے یا بھتہ خوری کے لیے دائر کیے جاتے ہیں۔ ملزمان کو بعض اوقات برسوں قید کے بعد رہا کیا جاتا ہے جب ثابت ہو جاتا ہے کہ ثبوت من گھڑت تھے، لیکن سماجی بدنامی اور خطرہ برقرار رہتا ہے۔

اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ توہین مذہب کے قانون کو مجرمانہ منافع کے لیے غلط استعمال کرنے کی ایک اور مثال ہوگی۔ تاہم دونوں رپورٹوں میں معلومات بہت کم ہیں اور مذہبی رہنما کی شناخت اور گروہ سے مبینہ تعلق کی نوعیت واضح نہیں۔

سکردو ٹائمز مزید معلومات ملنے پر اس خبر کو اپ ڈیٹ کرے گا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔