وفاقی آئینی عدالت نے پی ٹی آئی رکن کی نااہلی کیس کی سماعت ملتوی کر دی
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سہیل سلطان کے وکیل کی استدعا پر دو ہفتوں کی مہلت دی۔

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت پاکستان نے بدھ کو پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی سہیل سلطان کی نااہلی سے متعلق کیس کی سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
تین رکنی بینچ نے جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت سہیل سلطان کے وکیل بیرسٹر گوہر نے عدالت سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی۔ بینچ نے استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت دو ہفتوں کے لیے ملتوی کر دی۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان اور ڈیلی ٹائمز نے اس سماعت کی خبر دی ہے، لیکن دونوں ذرائع میں یہ وضاحت نہیں کی گئی کہ نااہلی کی درخواست کس بنیاد پر دائر کی گئی ہے اور درخواست گزار کون ہے۔ عدالت نے بدھ کو کیس کے میرٹ پر کوئی دلائل نہیں سنے اور سماعت صرف ملتوی کرنے کی درخواست تک محدود رہی۔
سہیل سلطان پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر قومی اسمبلی کے رکن ہیں، تاہم ذرائع نے ان کا حلقہ ظاہر نہیں کیا۔ مختصر کارروائی میں کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا گیا۔
وفاقی آئینی عدالت پاکستان میں آئینی معاملات کے ساتھ ساتھ پارلیمان کی رکنیت کے لیے نااہلی سے متعلق معاملات کی بھی سماعت کرتی ہے۔ بدھ کے حکم کے بعد کیس اب دو ہفتوں بعد دوبارہ مقرر کیا جائے گا، تاہم حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔
یاد رہے کہ نااہلی کے مقدمات میں ابتدائی سماعتیں اکثر طریقہ کار کی درخواستوں جیسے ملتوی کرنے کی استدعا پر ہی بیت جاتی ہیں۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔