آئینی عدالت نے لیوی فیصلے کے خلاف 1,178 درخواستیں مسترد کر دیں
وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 پر سپریم کورٹ کے 28 دسمبر 2021 کے فیصلے کو برقرار رکھا، تاہم دستیاب رپورٹوں میں عدالت کی وجوہات یا بنچ کی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

وفاقی آئینی عدالت نے انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 کی آئینی حیثیت کے بارے میں سپریم کورٹ کے 28 دسمبر 2021 کے فیصلے کے خلاف دائر 1,178 نظرثانی درخواستیں مسترد کر دی ہیں اور سابقہ فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ یہ اطلاع ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے 28 اکتوبر کو دی۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں درخواستوں کی تعداد اور نتیجہ بتایا گیا، اس کے علاوہ زیادہ تفصیل نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کس بنچ نے یہ درخواستیں سماعت کیں، حکم کس تاریخ کو دیا گیا، عدالت کی وجوہات کیا رہیں، اور نہ ہی کسی درخواست گزار کا نام یا اس کی بنیاد بتائی گئی جس پر 2021 کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔
ڈان نے بھی اس مسترد ہونے کو شائع کیا، جس کی سرخی ایگریگیٹر Ua.News نے گردش میں لائی۔ دستیاب مواد میں اس رپورٹ میں بھی بنچ کی تشکیل یا نظرثانی درخواستوں میں پیش کیے گئے دلائل کے بارے میں کوئی اضافی تفصیل نہیں تھی۔ سکردو ٹائمز حکم کی نقل آزادانہ طور پر حاصل نہیں کر سکا۔
نظرثانی درخواستوں میں عدالت سے اپنے ہی فیصلے پر دوبارہ غور کرنے کی اپیل کی جاتی ہے۔ درخواستیں مسترد ہونے کی صورت میں اصل فیصلہ برقرار رہتا ہے۔ دستیاب رپورٹوں کی روشنی میں 2013 کے لیوی سے متعلق 2021 کا فیصلہ ہی نافذ العمل فیصلہ ہے، اور اسے کسی نئے چیلنج کی اطلاع نہیں ملی۔
انکم سپورٹ لیوی ایکٹ 2013 وہ قانون ہے جس کی آئینی حیثیت پر سپریم کورٹ نے 28 دسمبر 2021 کو فیصلہ دیا تھا۔ دستیاب رپورٹوں میں اس قانون کی دفعات، اس کے دائرہ کار یا اس میں شامل رقوم کی تفصیل نہیں دی گئی، اور یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ چیلنج کس بنیاد پر کیا گیا۔
دستیاب رپورٹوں میں نہ وفاقی حکومت، نہ وزارت خزانہ اور نہ کسی درخواست گزار کا بیان سامنے آیا، اور اس بارے میں بھی کوئی فوری سرکاری وضاحت نہیں دی گئی کہ اس مسترد ہونے کا عملی طور پر کیا اثر پڑے گا، بشمول اس قانون کے تحت لگائی گئی کسی لیوی کے۔
وفاقی آئینی عدالت نے یہ نظرثانی درخواستیں سماعت کیں، تاہم رپورٹوں میں اس کی کارروائی کی تفصیل نہیں دی گئی۔ مسترد ہونے والی درخواستوں کی تعداد 1,178 وہ سب سے مخصوص تفصیل ہے جو سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ میں موجود تھی، اور شائع شدہ رپورٹیں بنیادی طور پر اسی عدد پر کھڑی ہیں، نہ کہ عدالت کی کسی وجہ پر۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔