عدالت نے ڈی-12 قبرستان پر سی ڈی اے کی کارروائی روک دی
اسلام آباد ہائی کٹ نے شہری ادارے سے تحریری جواب طلب کیا ہے، درخواست میں الٰہی مسجد قبرستان کی حفاظت اور حدود مقرر کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کو سیکٹر ڈی-12 میں واقع ایک آبائی قبرستان پر مزید کوئی کارروائی کرنے سے روک دیا ہے اور قبروں کو ہٹانے کے خلاف دائر درخواست پر شہری ادارے سے تحریری جواب طلب کیا ہے۔
جسٹس محمد اعظم خان نے یہ حکم تحریری شکل میں وقر احمد کی دائر کردہ درخواست کی سماعت کے بعد جاری کیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے موضع سری سرال، سیکٹر ڈی-12 میں واقع الٰہی مسجد قبرستان کی حفاظت کی استدعا کی ہے۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ اس مقام پر ان کے آباؤ اجداد اور علاقے کے دیگر رہائشیوں کی قبریں موجود ہیں، اور استدعا کی کہ سی ڈی اے کو وہاں تعمیراتی کام، سڑکوں کی تعمیر اور زمین ہموار کرنے سے روکا جائے۔
عبوری حکم میں عدالت نے ہدایت دی کہ قبرستان کی موجودہ صورتِ حال برقرار رکھی جائے، اور سی ڈی اے سے تحریری جواب طلب کیا۔ پروپاکستانی نے یہ حکم رپورٹ کیا، جبکہ ایکسپریس ٹریبیون نے بھی اسے ”سی ڈی اے کو قبرستان تبدیل کرنے سے روک دیا گیا“ کی سرخی کے ساتھ شائع کیا۔ کسی بھی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سماعت کی اگلی تاریخ کب مقرر ہوگی۔
درخواست کے مطابق ریونیو ریکارڈ، سروے رپورٹس اور گوگل میپس کی تصاویر بھی اس مقام کو قبرستان اور تدفین کی جگہ کے طور پر شناخت کرتی ہیں۔ درخواست گزار کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ قبرستان کی باڑ لگائی جائے اور اس کی حدود واضح کی جائیں تاکہ اسے قبضے یا قبروں کی منتقلی سے محفوظ رکھا جا سکے، اور علاقے میں تعمیراتی کام شروع ہونے سے قبل اس مقام کو محفوظ بنایا جائے۔
یہ تنازعہ اس اراضی کی حیثیت پر ہے: درخواست گزار کے مطابق یہ ایک تسلیم شدہ قبرستان اور تدفین گاہ ہے، جبکہ سی ڈی اے اپنے جواب میں اس مقام اور وہاں منصوبہ بند ترقیاتی کام کے بارے میں اپنا موقف واضح کرے گا۔
عدالت نے درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں دیا۔ اس کا حکم سی ڈی اے کے جواب جمع ہونے تک زمینی صورتِ حال کو برقرار رکھتا ہے، اور مقدمہ اسی جواب کی بنیاد پر آگے بڑھے گا۔
سیکٹر ڈی-12 دارالحکومت کے نئے ترقیاتی سیکٹروں میں شمار ہوتا ہے، اور وہاں اراضی کے استعمال سے متعلق تنازعے وقتاً فوقتاً ہائی کورٹ کے سامنے آتے رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔