ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کو دس دس سال قید، جرمانے کی سزا
جج طاہر عباس سپرا نے اڈیالہ جیل میں فیصلہ سنایا، جہاں دونوں ملزمان کئی ماہ سے قید ہیں؛ عدالت نے تینوں سزائیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا۔

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کی وکیل ایمان مزاری اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ کو اکتوبر 2024 میں اسلام آباد کے زیرو پوائنٹ پر پولیس کی لگائی گئی رکاوٹیں ہٹانے اور کارِ سرکار میں مداخلت کے مقدمے میں دس دس سال قید کی سزا سنا دی ہے۔
بی بی سی اردو اور انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق جج طاہر عباس سپرا نے جمعرات کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں یہ فیصلہ سنایا، جہاں دونوں ملزمان کئی ماہ سے قید ہیں۔ بی بی سی اردو نے عدالت کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت جبکہ انڈیپنڈنٹ اردو نے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی عدالت قرار دیا ہے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق دونوں کو تین دفعات کے تحت سزا دی گئی۔ انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 کے تحت ہر ایک کو دس سال قیدِ سخت اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ، پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 353 کے تحت دو دو سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانہ، اور دفعہ 186 کے تحت ایک ایک سال قید اور 50، 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔ جرمانہ نہ دینے کی صورت میں بالترتیب چھ ماہ، تین ماہ اور ایک ماہ کی اضافی قید بھگتنی ہو گی۔
عدالت نے سزائیں بیک وقت چلانے کا حکم دیا، اس لیے مؤثر سزا دس سال ہے اگرچہ تینوں دفعات کی مجموعی سزا 13 سال بنتی ہے۔ دونوں کو ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 382-B کا فائدہ بھی دیا گیا، یعنی زیرِ حراست گزرا وقت سزا میں شمار ہو گا۔ ہر ملزم پر کل جرمانہ دو لاکھ روپے ہے۔
مقدمہ 25 اکتوبر 2024 کو درج کیا گیا تھا، جب راولپنڈی میں انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان ٹیسٹ میچ جاری تھا اور پولیس نے زیرو پوائنٹ پر سڑک بند کر رکھی تھی۔ استغاثہ کا الزام تھا کہ ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ نے رکاوٹیں ہٹائیں اور پولیس اہلکاروں پر تشدد کیا۔ دونوں نے الزامات کی تردید کی۔ انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق 7 اکتوبر کو فرد جرم عائد کی گئی جس پر دونوں نے صحتِ جرم سے انکار کیا، عدالت نے عاطف محمود کو سٹیٹ کونسل مقرر کیا اور استغاثہ نے سات گواہ پیش کیے۔
فیصلے سے قبل منگل 27 اکتوبر کو دونوں نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اڈیالہ جیل میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ ایمان مزاری نے کہا کہ وہ احتجاج کے طور پر بیان ریکارڈ کروا رہی ہیں۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وہ انسدادِ دہشت گردی عدالت کی سماعت کے لیے جا رہی تھیں اور انہیں پندرہ منٹ میں پہنچنا تھا کہ سڑک غیر ملکی کرکٹ ٹیم کے روٹ کی وجہ سے بند ملی، پولیس کے پاس مجسٹریٹ کا تحریری حکم موجود نہ تھا اور استغاثہ بھی دورانِ ٹرائل ایسا کوئی حکم نامہ پیش نہ کر سکا۔ ان کا کہنا تھا کہ پندرہ منٹ انتظار کے بعد انہوں نے اہلکاروں سے سڑک کھولنے کی درخواست کی کیونکہ شہریوں کے نقل و حرکت کے آئینی حقوق متاثر ہو رہے تھے، اور یہ بھی کہا کہ سڑک کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ سادہ لباس میں موجود ایک پولیس اہلکار نے ان پر لوہے کا راڈ پھینکا جس سے وہ زخمی ہوئیں اور ان کے شوہر نے دفاعی اقدام کیا؛ پمز ہسپتال کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی زخمی پولیس اہلکار کا ریکارڈ پیش نہیں کیا گیا اور تمام گواہ پولیس اہلکار ہیں۔
انڈیپنڈنٹ اردو کے مطابق دونوں اس مقدمے میں ضمانت پر تھے۔ بی بی سی اردو کے مطابق انہیں ایک اور مقدمے میں رہائی کے فوراً بعد اڈیالہ جیل ہی سے اس کیس میں گرفتار کیا گیا تھا؛ جنوری 2026 میں اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت نے متنازع ٹویٹس کے کیس میں دونوں کو 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی جسے سپریم کورٹ نے اگست 2026 میں معطل کرتے ہوئے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔
ویڈیو

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔