مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سائبر کرائم ایجنسی نے طالبہ کو بلیک میل کرنے والا ملزم 15 منٹ میں گرفتار کر لیا

ایجنسی کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ہراسانی کے مقدمات میں 351 گرفتاریاں ہوئیں، جبکہ لاہور اور کراچی میں کال سینٹرز پر چھاپوں میں 89 مزید ملزمان پکڑے گئے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
سائبر کرائم ایجنسی نے طالبہ کو بلیک میل کرنے والا ملزم 15 منٹ میں گرفتار کر لیا

قومی سائبر کرائم تفتیشی ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے ایک سکول کی طالبہ کو مبینہ طور پر آن لائن ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کی شکایت پر ایک نوجوان کو پندرہ منٹ کے اندر گرفتار کر لیا۔ ایجنسی نے یہ معلومات ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کو دیں۔ شکایت ای-کچہری کے دوران سامنے آئی، جہاں ایجنسی عوام کے مسائل سنتی ہے۔

اے پی پی کے مطابق سکول کی پرنسپل نے یہ معاملہ ای-کچہری میں این سی سی آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل سید علی ناصر رضوی کے سامنے اٹھایا اور پندرہ منٹ بعد ملزم گرفتار کر لیا گیا۔ جمعرات کو سامنے آنے والی اس رپورٹ میں سکول، طالبہ یا گرفتار نوجوان کا نام نہیں دیا گیا اور نہ یہ بتایا گیا کہ گرفتاری کہاں عمل میں آئی۔

اسی رپورٹ کے مطابق ایجنسی نے سوشل میڈیا پر ہراسانی کے مقدمات میں 351 گرفتاریاں درج کی ہیں۔ رپورٹ میں ان گرفتاریوں کی صوبائی تقسیم، متعلقہ پلیٹ فارم یا شکایات کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

ادھر منٹ مرر نے بتایا کہ این سی سی آئی اے نے بدھ کے روز لاہور اور کراچی میں چار غیر قانونی کال سینٹرز پر چھاپے مارے جن کے نتیجے میں 89 مزید گرفتاریاں ہوئیں۔ یہ کارروائیاں ایجنسی کے لاہور اور کراچی سرکلز نے کیں۔

منٹ مرر کے مطابق ترجمان نے بتایا کہ ملزمان غیر ملکیوں کو ٹیلی کام پیکجز اور فون اپ گریڈ کی پیشکش کر کے دھوکہ دیتے تھے، اور یہ ایسے نیٹ ورک سے بھی تعلق رکھتے تھے جو بینکنگ معلومات حاصل کر کے رقم نکال لیتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر نے کارروائی کی تفصیلات جاری کیں۔

دونوں رپورٹس میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ 89 گرفتاریاں 351 کے اعداد و شمار میں شامل ہیں یا اس کے علاوہ ہیں، اور این سی سی آئی اے نے کسی رپورٹ میں مجموعی تعداد جاری نہیں کی۔

این سی سی آئی اے وہ وفاقی ایجنسی ہے جو سائبر کرائم، بشمول آن لائن ہراسانی، بلیک میلنگ اور مالی فراڈ، کی تحقیقات کرتی ہے اور اس کی ای-کچہری کے اجلاسوں میں عوام سے براہ راست شکایات لی جاتی ہیں۔ دونوں رپورٹس مسلسل دو دن کی کارروائیوں کی عکاسی کرتی ہیں: بدھ کو کال سینٹرز پر چھاپے اور جمعرات کو ای-کچہری کی شکایت پر گرفتاری۔

دونوں رپورٹس میں 351 ملزمان یا کال سینٹرز کے چھاپوں میں گرفتار 89 افراد میں سے کسی کا نام نہیں دیا گیا اور نہ یہ بتایا گیا کہ کسی کے خلاف الزام عائد کیا گیا یا کسی کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ پاکستانی قانون کے مطابق محض گرفتاری جرم کا ثبوت نہیں ہوتی۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔