اسحاق دار اور چینی سفیر کی ملاقات، سی پیک پیش رفت کا جائزہ
دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، رابطوں اور زراعت کی جدید کاری پر بات ہوئی؛ نئے منصوبوں، اعداد و شمار یا ٹائم لائن کا اعلان نہیں کیا گیا۔

اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد اسحاق دار نے اتوار کو اسلام آباد میں چین کے سفیر جیانگ زائے دانگ سے ملاقات کی اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی پیش رفت کا جائزہ لیا۔ یہ اطلاع دفتر خارجہ نے دی۔
وزارت خارجہ کے جاری کردہ بیان کے مطابق اسحاق دار نے کہا کہ دونوں ممالک کی ’’ہمہ موسمی اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘‘ مسلسل پھیل رہی ہے، اور انہوں نے سی پیک کے تحت تعاون کے ساتھ ساتھ رابطوں، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت کی جدید کاری اور عوامی سطح کے تبادلوں کا ذکر کیا۔
نائب وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ نئے دور میں پاک چین مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی کو آگے بڑھانے کے لیے اعلیٰ سطح کے مسلسل تبادلے ضروری ہیں۔
بزنس ریکارڈر کے مطابق ملاقات میں دونوں فریقوں کو علاقائی پیش رفت پر تبادلہ خیال کا موقع بھی ملا اور دونوں نے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے مکالمے اور ڈپلومیسی کی اہمیت پر زور دیا۔ دفتر خارجہ کے بیان یا کسی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سے علاقائی امور زیر بحث آئے۔
ڈان نے رپورٹ کیا کہ اسحاق دار نے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کی توسیع کو سراہا۔ ایکسپریس ٹریبیون اور پاکستان ٹوڈے نے بھی یہی ملاقات کوری کی اور سی پیک کی پیش رفت کو نمایاں کیا۔
بیان میں سی پیک کے کسی مخصوص منصوبے کا نام، چینی سرمایہ کاری کے اعداد و شمار، یا کوئی نیا معاہدہ، ٹائم لائن یا دورہ بیان نہیں کیا گیا۔ یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ملاقات کتنی دیر جاری رہی یا اس میں کون کون شریک ہوا، اور دفتر خارجہ نے بیان کے علاوہ کوئی مزید دستاویز جاری نہیں کی۔
پاکستان اور چین اپنے تعلقات کو ’’ہمہ موسمی اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرشپ‘‘ کہتے ہیں، اور سی پیک (گوادر سے چینی سرحد تک سڑکوں، ریل، بندرگاہوں اور توانائی کے منصوبوں کی راہداری جو بلوچستان، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا سے گزرتی ہے) اس کا مرکز ہے۔ راہداری کے دوسرے مرحلے، جس میں صنعتی تعاون اور زراعت کی جدید کاری شامل ہے، ایسی ملاقاتوں کا مستقل موضوع رہا ہے۔
اتوار کی ملاقات اسحاق دار اور چینی سفیر کے درمیان سلسلہ وار ملاقاتوں کا تازہ ترین حصہ ہے۔ دفتر خارجہ نے یہ نہیں بتایا کہ اعلیٰ سطح کے مزید دوروں کا کوئی منصوبہ زیر غور ہے یا نہیں۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔