ڈیزل 1.91 روپے فی لیٹر مہنگا، پٹرول کی قیمت برقرار
پروفٹ بائے پاکستان ٹوڈے کے مطابق نئی قیمتیں 24 سے 26 اکتوبر تک لاگو ہوں گی، تاہم دستیاب رپورٹس میں کسی مصنوعات کی فی لیٹر قیمت نہیں بتائی گئی۔
ڈیزل کی قیمت فی لیٹر 1.91 روپے بڑھا دی گئی ہے جبکہ پٹرول کی قیمت اپنی جگہ برقرار رہے گی۔ یہ تبدیلی 24 سے 26 اکتوبر تک کے نوٹیفکیشن کے تحت کی گئی ہے، جس کی اطلاع پروفٹ بائے پاکستان ٹوڈے نے دی ہے۔ ایندھن کی فی لیٹر قیمت میں یہ معمولی اضافہ بھی مال بردار گاڑیوں، زرعی ٹیوب ویلوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔
پروفٹ بائے پاکستان ٹوڈے کے مطابق ڈیزل فی لیٹر 1.91 روپے مہنگا ہوا ہے اور پٹرول کی قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ اس رپورٹ میں نہ ڈیزل کی نئی ریٹیل قیمت بتائی گئی اور نہ پٹرول کی موجودہ فی لیٹر قیمت۔
دنیا نیوز نے بھی اس اعلان کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کیا، تاہم اس کی شائع شدہ سرخی اور خلاصے میں قیمتوں کا ذکر نہیں تھا اور مکمل بلیٹن اس اخبار کو دستیاب نہیں ہو سکا۔ دستیاب مواد میں کسی بھی ذریعے نے یہ نہیں بتایا کہ یہ فیصلہ کس افسر، وزارت یا ریگولیٹر نے کیا، اور نہ ہی اس کی وضاحت کی گئی کہ نوٹیفکیشن معمول کے دورانیے کے بجائے صرف تین دن کے لیے کیوں ہے۔
پاکستان میں ایندھن کی قیمتیں وفاقی حکومت آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی سفارش پر مقرر کرتی ہے اور عام طور پر یہ اطلاع طویل تر جائزہ مدت کے لیے دی جاتی ہے۔ دستیاب رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ 24 سے 26 اکتوبر کی مدت کوئی مختصر نوٹیفکیشن ہے یا ڈیزل کی قیمت بڑھانے کی وجہ کیا ہے۔
ڈیزل بنیادی طور پر بھاری مال بردار گاڑیوں، زراعت کے ٹیوب ویلوں اور کچھ بجلی کی پیداوار میں استعمال ہوتا ہے، اس لیے فی لیٹر اضافہ کرایوں اور بالواسطہ طور پر خوراک کی قیمتوں میں نظر آتا ہے۔ پٹرول کاروں اور موٹر سائیکلوں کا بنیادی ایندھن ہے، اور اس کی قیمت برقرار رہنے سے یہ اثر فی الحال ڈیزل استعمال کرنے والوں تک محدود ہے۔
سکردو ٹائمز نئی قیمتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔ یہاں دیے گئے اعداد و شمار پروفٹ بائے پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ کے مطابق ہیں، اور اصل پمپ قیمتوں کو نوٹیفکیشن سامنے آنے تک غیر مصدقہ سمجھا جائے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔