ڈریپ نے ادویات پر بارکوڈ اور سیریل نمبر لازمی قرار دے دیے
نئے نظام کے تحت 19 اکتوبر 2026 کے بعد تیار ہونے والی الوپیتھک اور بائیولوجیکل ادویات کی پیکنگ پر منفرد سیریل نمبر اور بارکوڈ چھاپنا ہوگا، جبکہ متبادل ادویات اور طبی آلات اس دائرے سے باہر ہیں۔

ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے 19 اکتوبر 2026 کے بعد تیار ہونے والی الوپیتھک اور بائیولوجیکل ادویات پر بارکوڈ اور منفرد سیریل نمبر لگانا لازمی قرار دے دیا ہے۔ مقررہ تاریخ کے بعد بغیر بارکوڈ والی ادویات مارکیٹ میں فروخت نہیں کی جا سکیں گی۔ یہ اقدام ادویات کی ٹریس ایبلٹی بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نئے نظام کے تحت ادویات کی پیکنگ پر بارکوڈ اور منفرد سیریل نمبر چھاپنا ہوں گے۔ اس کا مقصد حکام کو ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعے ادویات کی نگرانی اور مینوفیکچرنگ سے مریض تک پورے ریکارڈ کو برقرار رکھنے کے قابل بنانا ہے۔ ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہر دوا کو مینوفیکچرنگ لائن سے تقسیم کے مراحل سے گزرتے ہوئے مریض تک پہنچنے تک ٹریک کرے گا۔
یہ ضابطہ الوپیتھک ادویات پر لاگو ہوتا ہے، جن میں انسانی اور ویٹرنری استعمال کی بائیولوجیکل مصنوعات شامل ہیں۔ متبادل ادویات، نیوٹراسیوٹیکلز، طبی آلات، میڈیکل گیسز اور ریڈیو فارماسیوٹیکلز اس دائرے میں شامل نہیں ہیں۔ اے آر وائی نیوز نے بتایا کہ ریگولیٹری تقاضے ایس آر او 963(I)/2026 میں تفصیل سے درج ہیں اور اس بات کی نشاندہی کی کہ اس ضابطے کو ڈریپ کے زیر انتظام تمام مصنوعات پر لاگو قرار دینا درست نہیں ہوگا۔
اے آر وائی نیوز نے مزید خبردار کیا کہ یہ کہنا کہ تمام ادویات اور تمام ڈریپ مصنوعات پر یکساں سیریلائزیشن لاگو ہوگی، ضابطے کی حدود کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کے مترادف ہوسکتا ہے۔ لازمی بارکوڈ اور سیریل نمبر کی شرط صرف بیان کردہ فارماسیوٹیکل سیریلائزیشن کے دائرے تک محدود ہے۔
ڈریپ نے دوا ساز صنعت کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے نظام کے نفاذ کے لیے تیاریاں مکمل کرے۔ اسلام آباد، راولپنڈی اور آزاد جموں و کشمیر میں دوا ساز اداروں کے لیے تربیتی ورکشاپس منعقد کی جائیں گی۔ پرو پاکستانی نے بتایا کہ یہ ورکشاپس ڈریپ چیئرمین کی ہدایت پر منعقد کی جا رہی ہیں۔ ان تربیتی سیشنز کا مقصد مینوفیکچررز کو نئے سیریلائزیشن فریم ورک کی تعمیل میں مدد فراہم کرنا ہے۔
اتھارٹی نے کہا ہے کہ سیریلائزیشن فریم ورک فیکٹری سے مریض تک ادویات کی ٹریس ایبلٹی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک قدم ہے۔ یہ نوٹیفکیشن 24 ستمبر 2026 کو پرو پاکستانی اور اے آر وائی نیوز دونوں نے شائع کیا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔