شمالی پاکستان میں بجلی کے چولہوں سے لکڑی کے اخراجات 60 فیصد کم، اے کے آر ایس پی
ادارے کا کہنا ہے کہ اس نے ایک سال میں 50,000 سبسڈی والے چولہے تقسیم کیے، مگر رپورٹ میں اضلاع، فی چولہ قیمت یا بجلی کے بل کی تفصیل نہیں دی گئی۔

شمالی پاکستان کے کچھ حصوں میں بجلی کے چولہے استعمال کرنے والے گھرانوں کا لکڑی پر ہونے والا خرچ تقریباً 60 فیصد کم ہو گیا ہے۔ یہ بتایا آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آر ایس پی) نے، جس کا کہنا ہے کہ اس نے گزشتہ ایک سال کے دوران 50,000 سبسڈی والے چولہے تقسیم کیے ہیں۔
یہ اعداد و شمار ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے جمعہ کو اپنی رپورٹ میں شائع کیے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ چولہے کس ضلع یا کس قصبے میں تقسیم ہوئے، ایک چولہے کی قیمت کتنی تھی، اور سبسڈی کا بوجھ کس نے اٹھایا۔
ادارے نے بچت کا اندازہ لکڑی پر پہلے ہونے والے خرچ کے حوالے سے دیا ہے۔ اے پی پی کی رپورٹ میں چولہوں کو سبسڈی والا تو کہا گیا، مگر فی چولہ قیمت اور اسکیم کے فنڈ دینے والوں کا نام درج نہیں۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ یہ چولہے کتنی بجلی استعمال کرتے ہیں اور گھرانوں کو چولہا چلانے کا کتنا بل ادا کرنا پڑتا ہے۔ فائدے کا واحد پیمانہ لکڑی کے خرچ میں کمی بتایا گیا ہے۔
اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ 50,000 چولے کن خاندانوں کو دیے گئے اور ان کے انتخاب کی بنیاد کیا تھی۔
ادھر ٹریبیون نے اپنی ایک الگ رپورٹ میں لکھا ہے کہ راولپنڈی میں گھرانے گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث دوبارہ لکڑی جلا رہے ہیں۔ ٹریبیون کی رپورٹ کا عنوان یہ تھا کہ پاکستان کا گیس بحران راولپنڈی کے خاندانوں کو مہنگائی کے سبب لکڑی کی طرف واپس دھکیل رہا ہے۔ اس رپورٹ کا تعلق راولپنڈی کی گیس فراہمی اور قیمتوں سے ہے، اے کے آر ایس پی کے اعداد و شمار والے شمالی اضلاع سے نہیں۔
دونوں رپورٹیں کھانا پکانے کے ایندھن کے خرچ کو ایک ہی وقت میں دو مخالف سمتوں میں دکھاتی ہیں۔ اے کے آر ایس پی کے مطابق شمال کے کچھ حصوں میں سبسڈی والے بجلی کے چولہے لکڑی کی جگہ لے رہے ہیں، جبکہ ٹریبیون کے مطابق راولپنڈی میں گیس کی قیمت خاندانوں کو لکڑی کی طرف واپس لا رہی ہے۔
کسی بھی رپورٹ میں یہ اعداد و شمار نہیں دیے گئے کہ پاکستان بھر میں کتنے گھرانے کھانا پکانے کے لیے لکڑی استعمال کرتے ہیں، ایندھن پر گھریلو خرچ کا کتنا حصہ جاتا ہے، یا 50,000 چولہوں سے ہونے والی مجموعی بچت کتنی ہے۔

گلگت بلتستان میں یومِ آزادی، گورنر اور وزیرِ اعلیٰ نے پرچم لہرایا
چنار باغ گلگت کی شہداء یادگار پر تقریب ہوئی، گورنر سید مہدی شاہ نے کہا آزادی کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے

ملک بھر میں خشک موسم، شمالی پہاڑوں پر برفباری کا امکان
گزشتہ 24 گھنٹوں میں سکردو کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت صفر ڈگری رہا، جو محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار میں لیہہ کے منفی 3 ڈگری کے بعد سب سے کم ہے۔

گلگت بلتستان میں یوم آزادی، چنار باغ میں پرچم کشائی کی تقریب
گورنر سید مہدی شاہ اور وزیراعلیٰ امجد حسین نے چنار باغ میں پرچم کشائی کی اور فاتحہ خوانی کی، تاہم سرکاری نشریاتی رپورٹ میں وزیراعلیٰ کا کوئی بیان شامل نہیں تھا۔

سندھ کے وزیراعلیٰ نے گلگت بلتستان کو یوم آزادی پر مبارکباد دی
اے پی پی کی خبر میں یہ مبارکباد صرف ایک جملے میں دی گئی، کسی پیکیج، وفد یا تقریب کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔