توانائی کے شعبے پر حکومتی مالی معاونت 750 ارب روپے رہنے کا دعویٰ
اویس لغاری کا یہ بیان تفصیلی گوشوارے کے بغیر سامنے آیا، جس کے مطابق حکومتی معاونت 1180 ارب روپے سے کم ہو کر 750 ارب روپے رہ گئی ہے۔

وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ بجلی کے شعبے کو حکومت کی جانب سے دی جانے والی مالی معاونت 1180 ارب روپے سے گھٹ کر 750 ارب روپے رہ گئی ہے، اور انہوں نے اس کمی کو شعبے کے گردشی قرضے میں کمی قرار دیا۔ یہ خبر اردو پوائنٹ نے منگل کو شائع کی۔
خبر صرف سرخی اور مختصر خلاصے پر مشتمل تھی، کوئی تفصیلی بیان اس کے ساتھ شامل نہیں تھا۔ اس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معاونت کس عرصے میں کم ہوئی، دونوں اعداد و شمار کس بنیاد پر ہیں، یا بچت کس اقدام سے حاصل ہوئی۔ وزیر موصوف کے بیان کے ساتھ کوئی نوٹیفکیشن، ورکنگ پیپر یا تحریری گوشوارہ جاری نہیں ہوا، اور سکردو ٹائمز ان اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا۔
گردشی قرضے سے مراد بجلی کی پیداوار اور ترسیل کے اخراجات اور صارفین و حکومت سے وصول ہونے والی رقم کے درمیان فرق ہے۔ یہ بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں اور سرکاری تقسیمی اداروں کے کھاتوں میں واجب الادا رقم کے طور پر درج رہتا ہے، اور گزشتہ حکومتیں اسے کم کرنے کا وعدہ کرتی رہی ہیں۔ اس بات پر بھی طویل عرصے سے اختلاف رہا ہے کہ قرضے کا کتنا حصہ واقعی ادا ہوتا ہے اور کتنا سرکاری کھاتوں کے درمیان منتقل کیا جاتا ہے۔
اویس لغاری اس سے قبل بھی گردشی قرضے میں کمی کا تعلق وزارت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات سے جوڑتے رہے ہیں، تاہم منگل کی خبر میں ان اقدامات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ انہوں نے یہ بھی نہیں بتایا کہ کمی نقد ادائیگی، ری فنانسنگ یا واجبات کی دوبارہ درجہ بندی کا نتیجہ ہے۔
ادھر ایکسپریس نیوز نے اویس لغاری کے حوالے سے ایک سرخی شائع کی کہ بجلی کے بلوں میں 200 یونٹ کی شرط ختم کرنے پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس خبر میں بھی مکمل بیان شامل نہیں تھا اور یہ واضح نہیں ہوا کہ مجوزہ تبدیلی کس سلیب یا صارفین کے کس طبقے پر لاگو ہوگی۔ ماضی میں ریلیف پیکجوں میں 200 یونٹ کی حد یہ طے کرنے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہے کہ کون سے صارفین سبسڈی یا محفوظ ٹیرف کے حقدار ہیں۔
کسی بھی خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معاونت کے اعداد و شمار کب مرتب کیے گئے، وہ کسی مالی سال کے ہیں یا مختصر عرصے کے، اور نہ یہ کہ تبدیلی سرکاری بجلی کمپنیوں کے کھاتوں میں ظاہر ہوئی ہے یا نہیں۔ وزارت کی جانب سے بھی سرکاری طور پر ان اعداد و شمار کی وضاحت نہیں کی گئی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔