مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

فاروق عبداللہ کے ’ہمسایہ ہماری حفاظت کر رہا ہے‘ بیان پر انڈیا میں سیاسی ہنگامہ

نیشنل کانفرنس رہنما نے بارہمولہ میں تقریر کے دوران پاکستان کا نام لیے بغیر یہ بات کہی؛ بی جے پی نے اسے ’انڈیا مخالف‘ قرار دے کر کارروائی کا مطالبہ کیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
فاروق عبداللہ کے ’ہمسایہ ہماری حفاظت کر رہا ہے‘ بیان پر انڈیا میں سیاسی ہنگامہ
Nasir Kachroo/NurPhoto via Getty Images

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے سابق وزیرِ اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے سربراہ فاروق عبداللہ کے اس بیان پر انڈیا میں سیاسی ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے کہ ’’ہمارا ہمسایہ ہماری حفاظت کر رہا ہے‘‘۔ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے اسے ’انڈیا مخالف‘ قرار دیا ہے، جبکہ کانگریس رہنماؤں اور مسلم مذہبی رہنماؤں نے بھی اس کی مذمت کی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق فاروق عبداللہ ہفتے کے روز ضلع بارہمولہ میں نیشنل کانفرنس کی ایک تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان کا نام نہیں لیا، تاہم آرٹیکل 370 کے تحت خصوصی حیثیت کے خاتمے اور حلقہ بندیوں کا ذکر کرتے ہوئے بی جے پی پر مسلمانوں کے ساتھ امتیازی سلوک کا الزام لگایا۔

انہوں نے کہا: ’’دہلی سے آپ کیا توقع کر سکتے ہیں؟ کیا یہ انصاف کریں گے؟ ان کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ رکھو۔ اگر نہیں رکھو گے تو مٹ جاؤ گے۔ یہ آج خاموش ہیں کیونکہ دنیا میں شور ہے اور ہمارا ہمسایہ ان کے پیچھے لگا ہوا ہے۔ وہ ہر جگہ جا کر کہتا ہے کہ کشمیر کا فیصلہ نہیں ہوا۔ وہ ہماری حفاظت کر رہا ہے۔‘‘

فاروق عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ انہوں نے کبھی نہیں کہا کہ وہ انڈین نہیں ہیں، اور وہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور مولانا آزاد کے انڈیا میں شامل ہوئے تھے۔ اردو پوائنٹ کے مطابق انہوں نے کہا کہ پاکستان مسئلہ کشمیر کو زندہ رکھے ہوئے ہے اور عالمی سطح پر کشمیریوں کے لیے آواز بلند کر رہا ہے۔

بی جے پی کے ترجمان الطاف ٹھاکر نے بیان کو ’انڈیا مخالف‘ اور ’کھلی بغاوت‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی وحدت اور سالمیت کے خلاف ہے اور اس پر کارروائی ہونی چاہیے۔ پارٹی کے ترجمان آر پی سنگھ نے پوچھا کہ جس پاکستان کی تعریف کی جا رہی ہے، اس نے کشمیر کے اس حصے کو کیا دیا، اور دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور پتھراؤ کا حوالہ دیا۔ رویندر رینا نے بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے ’غداری‘ کا الزام لگایا۔

کانگریس کے رکنِ پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ پاکستان خود اپنی حفاظت نہیں کر سکتا اور اس سے کوئی امید نہیں رکھنی چاہیے؛ انہیں سمجھ نہیں آیا کہ ایسا بیان کیوں دیا گیا۔ کانگریس رہنما ادت راج نے کہا کہ انہوں نے ایسی بات پہلے کبھی فاروق عبداللہ سے نہیں سنی۔

سماجوادی پارٹی کے رکنِ پارلیمنٹ محب اللہ ندوی نے کہا کہ کشمیر بھی ہمارا ہے اور کشمیری بھی ہمارے ہیں، اور خطے میں بدامنی پاکستان کی مداخلت اور غلط پالیسیوں کی وجہ سے رہی ہے۔

مسلم مذہبی رہنماؤں نے بھی بیان کی مذمت کی۔ دیوبندی عالمِ دین قاری اسحاق گورا نے کہا کہ فاروق عبداللہ کو انڈیا کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہیے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ایگزیکٹو رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ جموں و کشمیر انڈیا کا اٹوٹ انگ ہے اور اس خطے کی سلامتی ہمیشہ سکیورٹی فورسز نے یقینی بنائی ہے، اس لیے یہ کہنا کہ کوئی اور ملک اس کی حفاظت کر رہا ہے، ناقابلِ قبول ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق پاکستان کا موقف یہ رہا ہے کہ کشمیر ایک متنازع خطہ ہے اور اس کا حتمی فیصلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے، جبکہ پاکستان انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں مداخلت کی تردید کرتا آیا ہے۔ پاکستان کی حکومت آزاد کشمیر میں ہونے والے مظاہروں کو ’شرپسندی‘ قرار دیتی ہے اور مظاہروں کی قیادت کرنے والی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم تنظیموں کی فہرست میں شامل کر چکی ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔