ایف بی آر نے سوشل میڈیا آمدن پر ٹیکس کا نیا طریقہ متعارف کرایا
نئے قواعد کے تحت 30 فیصد تک اخراجات کی کٹوتی، سہ ماہی ایڈوانس ٹیکس اور ریٹرن میں علیحدہ ڈیکلریشن شامل ہے

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والوں کے لیے ٹیکس کا خصوصی طریقہ متعارف کراتے ہوئے انکم ٹیکس رولز میں نیا باب شامل کر دیا ہے۔ ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق یہ قواعد پاکستان میں سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والے رہائشی افراد پر لاگو ہوں گے۔
نئے قواعد کے تحت سوشل میڈیا آمدن سے اخراجات کی زیادہ سے زیادہ 30 فیصد تک کٹوتی کی جا سکے گی۔ کم از کم قابل ٹیکس آمدن کا حساب مجموعی آمدن میں سے قابل قبول اخراجات نکال کر کیا جائے گا۔ تاہم ایف بی آر نے قابل قبول اخراجات کی فہرست جاری نہیں کی۔
اگر کسی شخص کی اصل آمدن مقررہ حد سے کم ہو تو اسے کمشنر کو کم آمدن کا ثبوت دینا ہوگا۔ رپورٹ میں یہ حد بھی واضح نہیں کی گئی کہ مقررہ حد کیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق سوشل میڈیا سے حاصل ہونے والی مجموعی آمدن کا حساب ویوز اور حقیقی آمدن کی بنیاد پر ہوگا۔ فی ہزار ویوز کی آمدن کے ذریعے بھی حساب کیا جا سکے گا۔ حقیقی طور پر ملنے والی آمدن نقد یا کسی اور شکل میں ہو تو اسے بھی حساب میں شامل کیا جائے گا۔
ایف بی آر نے بتایا کہ سوشل میڈیا سے آمدن حاصل کرنے والوں کو ہر سہ ماہی میں ایڈوانس ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ انکم ٹیکس ریٹرن فائل کرتے وقت سوشل میڈیا کی آمدن کو الگ حصے میں ظاہر کرنا ہوگا۔ اگر کوئی شخص کم آمدن ظاہر کرے تو کمشنر اسے درست کر سکتا ہے۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ قانون کا اطلاق سوشل میڈیا پلیٹ فارم، سوشل میڈیا کانٹینٹ اور ریمنریٹو کانٹینٹ پر ہوگا۔
ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ نئے قواعد کب سے نافذ ہوں گے یا فی ہزار ویوز کی شرح کیا ہوگی۔ رپورٹ ایف بی آر کے بیان پر مبنی ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔