ایف بی آر نے نیشنل فیس لیس سینٹر قائم کر دیا
اسلام آباد میں قائم مرکز ٹیکس آڈٹ اور جانچ کے عمل کو مرکزی ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرے گا اور ٹیکس دہندگان کو افسر کی شناخت نہیں بتائی جائے گی۔

ایف بی آر نے نیشنل فیس لیس سینٹر کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ یہ مرکز اسلام آباد میں قائم کیا گیا ہے اور اس کا بنیادی مقصد ٹیکس آڈٹ اور جانچ کے عمل کو ایک مرکزی ڈیجیٹل نظام پر منتقل کرنا ہے تاکہ ٹیکس دہندگان اور ٹیکس افسران کے درمیان براہ راست رابطہ ختم کیا جا سکے۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ اقدام ٹیکس آڈٹ اور جانچ کے عمل میں اصلاحات لانے کے لیے کیا گیا ہے۔ پرو پاکستانی نے بتایا کہ یہ نیا نظام پاکستان کے نئے ٹیکس آپریٹنگ ماڈل کا حصہ ہے جس کی وفاقی حکومت نے جون میں اصولی منظوری دی تھی۔
نئے ماڈل کا مقصد ٹیکس معاملات میں افسران کی انفرادی صوابدید کو محدود کرنا ہے۔ اس کے تحت آڈٹ کیسز کمپیوٹرائزڈ رسک بیسڈ طریقہ کار سے منتخب کیے جائیں گے نہ کہ کسی افسر کی مرضی سے۔ کیس منتخب ہونے کے بعد اسے خودکار طریقے سے ملک کے کسی بھی حصے میں تعینات افسر کے حوالے کر دیا جائے گا۔
ٹیکس دہندہ کو یہ نہیں بتایا جائے گا کہ اس کا کیس کون سنبھال رہا ہے اور افسر کو بھی یہ کنٹرول حاصل نہیں ہوگا کہ اسے کون سے کیس دیے جائیں۔
ایف بی آر نے ٹیکس کیس کے مراحل کو بھی الگ کر دیا ہے۔ آڈٹ ایک افسر کرے گا، جانچ دوسرا تیار کرے گا اور حکم جاری ہونے سے پہلے تیسرا افسر کام کا جائزہ لے گا۔ اس تبدیلی کے بعد ایک ہی افسر کسی ٹیکس دہندہ کے کیس کو آڈٹ سے لے کر حتمی فیصلے تک کنٹرول نہیں کرے گا۔
ٹیکس دہندگان کو نوٹسز ملیں گے، جوابات جمع کرانے ہوں گے اور سماعتیں ایف بی آر کے آئی آر آئی ایس نظام کے ذریعے آن لائن ہوں گی۔ جہاں قانون جسمانی تصدیق یا وصولی کا تقاضا کرے گا وہاں الگ فیلڈ ٹیمیں یہ کام انجام دیں گی۔
پرو پاکستانی کے مطابق فنانس بل میں فیس لیس آڈٹ، جانچ اور اپیل کے لیے قانونی ڈھانچہ فراہم کیا گیا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔