ٹائر بنانے والی کمپنیوں کو 30 نومبر تک الیکٹرانک نگرانی کا حکم
رجسٹرڈ مینوفیکچررز کو پیداوار موقع پر ریکارڈ کرنے اور ڈیٹا ٹیکس حکام کو بھیجنے والا نظام نصب کرنا ہوگا، گیارہ دیگر شعبے پہلے ہی اس نظام میں شامل ہیں۔

اسلام آباد: وفاقی بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے تمام رجسٹرڈ ٹائر مینوفیکچررز کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ 30 نومبر تک الیکٹرانک پروڈکشن مانیٹرنگ سسٹم نصب کریں تاکہ پیداوار کی براہِ راست ریکارڈنگ اور ٹیکس حکام کو ڈیٹا کی ترسیل ممکن ہو سکے۔ ڈان نے جمعہ کو بتایا کہ ٹائر صنعت اس نظام میں شامل ہونے والا تازہ ترین شعبہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ نظام پیداوار کو اسی وقت ریکارڈ کرے گا جب وہ ہو رہی ہو، اور یہی ڈیٹا الیکٹرانک ذرائع سے ٹیکس حکام تک پہنچایا جائے گا۔ ہدایت کا اطلاق تمام رجسٹرڈ مینوفیکچررز پر ہے۔ ڈان کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کتنے پلانٹس اس دائرے میں آئیں گے، 30 نومبر کی مہلت گزر جانے پر کیا جرمانہ عائد ہوگا، یا ایف بی آر اس بات کی تصدیق کیسے کرے گا کہ آلات نصب ہو چکے ہیں اور کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جو شعبے پہلے ہی الیکٹرانک پروڈکشن مانیٹرنگ کے تحت ہیں ان میں پیکڈ چائے، گھریلو الیکٹرانکس، کاغذ اور پیپر بورڈ، خوردنی تیل اور گھی، چمڑا، ٹیکسٹائل اسپننگ، ٹائلز، پیکڈ دودھ، پیکڈ جوس، بوتل بند پانی اور ایریٹڈ مشروبات شامل ہیں۔
ڈان کے مطابق ٹائر صنعت سے پہلے گیارہ شعبے اس نظام کے دائرے میں آ چکے ہیں۔ رپورٹ میں اس ہدایت کو ایف بی آر کے ایک وسیع تر منصوبے کا حصہ بتایا گیا، تاہم منصوبے کے دیگر اجزاء یا ٹائر کی پیداوار کی نگرانی سے حکومت کو متوقع اضافی آمدنی کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔
یو اے نیوز نے بھی یہ خبر شائع کی اور اس کا حوالہ ڈان کو دیا۔
ایف بی آر نے یہ حکم جمعہ کے روز جاری کیا، جو اس کی مقرر کردہ آخری تاریخ سے تقریباً ایک ماہ پہلے ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔