ایف بی آر نے خود بجلی پیدا کرنے والی اسٹیل ملوں کے لیے نیا سیلز ٹیکس طریقہ کار جاری کر دیا
کیپٹو پاور پر چلنے والی اسٹیل ملوں کو ہر ماہ پانچ تاریخ تک خصوصی چالان کے ذریعے اضافی سیلز ٹیکس جمع کرانا ہو گا اور ایس ٹی آر-7 ریٹرن کے مقررہ خانے میں درج کرانا ہو گا۔

فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ان اسٹیل مینوفیکچررز کے لیے نیا طریقہ کار جاری کیا ہے جو اپنی بجلی خود پیدا کرتے ہیں اور جن پر اضافی سیلز ٹیکس لاگو ہوتا ہے۔ ٹیکس حکام ایسی ملوں کو گرڈ سے بجلی لینے والی ملوں سے الگ زمرے میں رکھتے ہیں۔
جمعرات کو جاری ہونے والے سیلز ٹیکس جنرل آرڈر نمبر 31 برائے 2026 (آئی آر آپریشنز) میں یہ طریقہ کار سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور 31 جولائی 2026 کے ایس آر او 1245(آئی)/2026 کے تحت طے کیا گیا ہے۔ یہ حکم ان اسٹیل مینوفیکچررز پر لاگو ہو گا جو مذکورہ نوٹیفکیشن کی شق (a) کی ذیلی شق (iv) میں آتے ہیں اور کیپٹو پاور پلانٹس یا خود پیدا کردہ بجلی استعمال کرتے ہیں۔
ایسے مینوفیکچررز کو ہر ٹیکس دورانیے میں اسٹیل کی پیداوار کے لیے استعمال ہونے والے بجلی کے یونٹس کی بنیاد پر مقررہ شرح سے اضافی سیلز ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔ انہیں بجلی کی پیداوار اور کھپت کا مناسب ریکارڈ رکھنا ہو گا اور متعلقہ ٹیکس دورانیے میں استعمال شدہ یونٹس اپنے سیلز ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کرنے ہوں گے۔
ادائیگی ٹیکس دورانیے کے اگلے ماہ کی پانچ تاریخ تک خصوصی پیمنٹ سلپ آئی ڈی (پی ایس آئی ڈی) چالان اور اس کے متعلقہ کمپیوٹرائزڈ پیمنٹ رسید (سی پی آر) کے ذریعے کرنی ہو گی۔ ایف بی آر کے مطابق یہ سہولت صرف کیپٹو پاور یا خود پیدا کردہ بجلی استعمال کرنے والی اسٹیل ملوں کو دی جائے گی۔ اس ادائیگی پر کوئی انوائس جاری یا تیار نہیں کی جائے گی۔
جمع شدہ رقم ایس ٹی آر-7 سیلز ٹیکس ریٹرن کی سطر 23c میں درج کرنی ہو گی، جس کا عنوان ''Additional Sales Tax on Electricity Supplied to Steel Melters and Re-Rollers'' ہے، اور اسی کے برابر رقم سطر 1a میں، جس کا عنوان ''Input from Additional Sales Tax on Electricity Supplied to Steel Melters and Re-Rollers'' ہے، تاکہ قانون کے مطابق آؤٹ پٹ سیلز ٹیکس کے خلاف ایڈجسٹمنٹ ہو سکے۔ ایف بی آر نے واضح کیا کہ سطر 23c میں کوئی رقم درج نہیں کی جا سکتی اور نہ سطر 1a کے ذریعے ایڈجسٹمنٹ کا دعویٰ کیا جا سکتا ہے، جب تک کہ متعلقہ اضافی سیلز ٹیکس خصوصی چالان کے ذریعے جمع اور سی پی آر کے ذریعے تصدیق شدہ نہ ہو۔
متعلقہ کمشنر ان لینڈ ریونیو مینوفیکچرر کے رکھے گئے ریکارڈ کی بنیاد پر، سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور تیرہویں شیڈول کی شرائط کے مطابق، استعمال شدہ بجلی کے یونٹس کی تصدیق کریں گے۔ رجسٹرڈ افراد کو اپنی پیداوار اور سپلائی بھی سیلز ٹیکس ریٹرن میں ظاہر کرنی ہو گی۔ متعلقہ چیف کمشنر ان لینڈ ریونیو یا کمشنر ان لینڈ ریونیو اس جنرل آرڈر کی عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے اور اس طریقہ کار میں شامل رجسٹرڈ افراد کی جانب سے اضافی سیلز ٹیکس کی ادائیگی کی نگرانی کریں گے۔
ایف بی آر نے کہا کہ کسی بھی قسم کی کوتاہی، کم ادائیگی یا بجلی کے یونٹس کے غلط اعلان کو سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 اور اس کے تحت بنائے گئے قواعد کی متعلقہ شقوں کے تحت نمٹا جائے گا۔
ایف بی آر کے مطابق یہ جنرل آرڈر یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہو گا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔