مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ قریب، ایف بی آر نے 75 فیصد تک جرمانے کی وارننگ دی

ایف بی آر کے ذرائع کے مطابق ہر گوشوارے کی مصنوعی ذہانت کے ذریعے جانچ کی جائے گی اور اثاثے چھپانے یا غلط اعلان پر واجب الادا ٹیکس کا 75 فیصد تک جرمانہ لگ سکتا ہے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ قریب، ایف بی آر نے 75 فیصد تک جرمانے کی وارننگ دی

اسلام آباد: انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے کی آخری تاریخ 31 اکتوبر ہے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو نے خبردار کیا ہے کہ اثاثے چھپانے یا غلط گوشوارہ جمع کرانے والوں کو واجب الادا ٹیکس کے 75 فیصد تک جرمانہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اطلاع اے آر وائی نیوز نے ذرائع کے حوالے سے دی۔

ذرائع کے مطابق یہ جرمانے انکم ٹیکس آرڈیننس کی دفعہ 182 اور اس کی ذیلی دفعات کے تحت لگائے جائیں گے، جن کے تحت ایف بی آر کو انتظامی جرمانے عائد کرنے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ جرمانے مقررہ وقت پر ادا نہ ہونے کی صورت میں 1000 روپے یومیہ کی تاخیری فیس بھی وصول کی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق ایف بی آر نے کہا ہے کہ گوشواروں میں گمراہ کن معلومات پر سخت کارروائی کی جائے گی۔

ایف بی آر کے ذرائع نے بتایا کہ ادارے نے ملک بھر میں جائیدادوں اور اثاثوں کا مکمل ڈیٹا جمع کر لیا ہے اور ہر گوشوارے کی خودکار نظام کے ذریعے جانچ کی جائے گی، جس میں مصنوعی ذہانت کا بڑے پیمانے پر استعمال ہو گا۔ ذرائع کا مشورہ ہے کہ ٹیکس دہندگان پیشہ ور کنسلٹنٹس سے رہنمائی لیں اور 31 اکتوبر سے پہلے کسی بھی غلطی کی اصلاح کرائیں۔

ایف بی آر کے چیئرمین راشد محمود لنگڑیال نے تنخواہ دار افراد کو بھیجے گئے ایڈوانس انکم ٹیکس کے نوٹسوں کا الگ سے نوٹس لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق چیئرمین کی رائے ہے کہ جن افراد کی آمدنی کا واحد ذریعہ تنخواہ ہے، ان پر ایڈوانس انکم ٹیکس عائد کرنا مناسب نہیں۔ تاہم جن کی آمدنی کے دیگر ذرائع بھی ہیں وہ ایڈجسٹ ہونے والا ایڈوانس ٹیکس ادا کرنے کے پابند رہیں گے۔ تنخواہ دار افراد سے وصول کیا گیا اضافی ایڈوانس ٹیکس فوری طور پر ایڈجسٹ کر دیا جائے گا۔

ملک بھر میں تنخواہ دار ٹیکس دہندگان کو ہر سہ ماہی ایڈوانس انکم ٹیکس کی ادائیگی کے نوٹس مل رہے تھے۔ ذرائع کے مطابق نئی تجویز کے تحت صرف تنخواہ پر انحصار کرنے والے افراد کو اب یہ نوٹس نہیں بھیجے جائیں گے۔ اس اقدام کا مقصد تنخواہ دار طبقے کا مالی بوجھ کم کرنا ہے۔

انویسٹیفائی کی رپورٹ کے مطابق ایف بی آر کو اب تک ریکارڈ 7.5 ملین ٹیکس گوشوارے موصول ہو چکے ہیں اور ٹیکس بار ایسوسی ایشنز مہلت بڑھانے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ایف بی آر نے اس مطالبے پر کوئی جواب دیا ہے یا نہیں۔ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کے بوجھ اور مختلف آمدنی گروپوں میں ٹیکس کی منصفانہ تقسیم کے حوالے سے تشویش پہلے ہی موجود ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔