مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

فوت شدہ بھائی کے بچوں کا وراثتی دعویٰ مسترد

وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 صرف پہلے سے فوت شدہ بیٹے یا بیٹی کے بچوں پر لاگو ہوتی ہے، بھائی کے بچوں پر نہیں۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
فوت شدہ بھائی کے بچوں کا وراثتی دعویٰ مسترد

اسلام آباد: وفاقی آئینی عدالت نے جمعرات کو ایک درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا کہ پہلے سے فوت شدہ بھائی کے بچے مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 کے تحت بے اولاد شخص کی جائیداد میں حصے کا دعویٰ نہیں کر سکتے۔

ڈان اور ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان دونوں نے یہ فیصلہ رپورٹ کیا۔

دفعہ 4 پہلے سے فوت شدہ بیٹے یا بیٹی کے بچوں کو وراثت کا حق دیتی ہے۔ عدالت کے سامنے جو مقدمہ تھا اس میں متوفی شخص کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی اور دعویٰ اس کے بھائی کے بچوں نے دائر کیا تھا جو ان سے پہلے وفات پا چکے تھے۔

عدالت نے کہا کہ یہ شق صرف اس صورت میں لاگو ہوتی ہے جب پہلے سے فوت شدہ وارث بیٹا یا بیٹی ہو اور دعویٰ ان کے بچے کریں۔ ڈان نے وفاقی آئینی عدالت کے چیف جسٹس کے حوالے سے بتایا کہ "مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 4 صرف اسی صورت میں لاگو ہوتی ہے جب پہلے سے فوت شدہ وارث بیٹا یا بیٹی ہو اور دعویٰ ان کے بچے کریں۔"

عدالت نے وضاحت کی کہ 'پروپوزیٹس' یعنی وہ مرکزی شخص جس سے خاندانی شجرہ ملتا ہے، کے حوالے سے دفعہ 4 کا اطلاق صرف اسی وقت ہوتا ہے جب پہلے سے فوت شدہ وارث اس شخص کا بیٹا یا بیٹی ہو۔ درخواست گزار نے استدعا کی تھی کہ دفعہ 4 کے تحت انہیں بھی وراثت میں حصہ دیا جائے، لیکن عدالت نے یہ استدعا مسترد کر دی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے بھی یہی نتیجہ رپورٹ کیا کہ عدالت نے قرار دیا کہ دفعہ 4 پہلے سے فوت شدہ بھائی کے بچوں تک نہیں پھیلتی۔

دستیاب رپورٹوں میں فریقین کے نام یا فیصلے کا مکمل متن شامل نہیں تھا۔ دونوں ذرائع نے بتایا کہ فیصلہ اسلام آباد میں سنایا گیا۔

اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ آرڈیننس کے تحت پوتے پوتیوں کو وراثت کا قانونی تحفظ صرف متوفی کے بیٹے یا بیٹی کے ذریعے ملتا ہے، بھائی جیسے رشتہ داروں کے ذریعے نہیں۔ اس لیے پہلے سے فوت شدہ بھائی کے بچے دفعہ 4 کے دائرے سے باہر ہیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔