وفاقی وزیر صحت نے تمام طبی مراکز کے حفاظتی آڈٹ کا حکم دے دیا
وزارت صحت کے تحت آنے والے ہسپتالوں، بنیادی صحت مراکز اور دیہی صحت مراکز میں فائر سیفٹی اور بنیادی ڈھانچے کا جامع جائزہ لیا جائے گا۔

وفاقی وزیر برائے قومی صحت خدمات، ضابطہ اور رابطہ سید مصطفیٰ کمال نے وزارت صحت کے زیر انتظام تمام ہسپتالوں، طبی اداروں، بنیادی صحت مراکز (بی ایچ یو) اور دیہی صحت مراکز (آر ایچ سی) میں فائر سیفٹی اور بنیادی ڈھانچے کا جامع جائزہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ حکم وزارت صحت کے تمام اداروں پر لاگو ہوگا۔
وزارت کی جانب سے آڈٹ کی مدت یا اس میں شامل اداروں کی تعداد کے بارے میں فوری طور پر تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ یہ حکم صرف وفاقی وزارت کے زیر انتظام اداروں پر لاگو ہوتا ہے، صوبائی یا نجی ہسپتالوں پر نہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے یہ ہدایت 24 ستمبر کو رپورٹ کی۔
جائزے میں فائر سیفٹی کے انتظامات اور بنیادی ڈھانچے کی حالت دیکھی جائے گی۔ وزارتی بیان میں کسی مخصوص آتشزدگی یا عمارت کی خرابی کا حوالہ نہیں دیا گیا، تاہم حالیہ برسوں میں پاکستان کے سرکاری صحت مراکز میں حفاظتی خدشات بار بار سامنے آئے ہیں۔
دوسری جانب سندھ ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (سیپا) کے علاقائی دفتر شہید بینظیر آباد نے سکرنڈ میں طبی مراکز کا اچانک معائنہ کیا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق یہ معائنے علاقائی انچارج ڈاکٹر گل امیر سنبل کی نگرانی میں کیے گئے۔ ٹیم نے تعلقہ ہسپتال سکرنڈ اور دیگر طبی مراکز کا دورہ کیا۔ معائنے کا مقصد ماحولیاتی قوانین اور ہسپتال کے فضلے کے انتظام کے ضوابط کی تعمیل کا جائزہ لینا تھا۔
سیپا کا یہ اقدام وفاقی وزیر کے حکم کردہ فائر سیفٹی آڈٹ کا حصہ نہیں تھا بلکہ فضلے کے انتظام کی الگ جانچ تھی۔ یہ صوبائی سطح پر ہسپتال کے فضلے کی صفائی کے سلسلے کی تازہ کڑی ہے، جسے اے پی پی نے 23 ستمبر کو رپورٹ کیا۔
وفاقی حفاظتی آڈٹ کے بارے میں مزید تفصیلات، جیسے جائزہ کسی بیرونی ایجنسی سے کرایا جائے گا یا نہیں، فوری طور پر دستیاب نہیں تھیں۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔