ایف آئی اے اسلام آباد زون میں تادیبی کارروائی، برطرفیوں کی تعداد میں فرق
سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کے مطابق 76 ملازمین کو سزا دی گئی جن میں 10 برطرف اور 8 تنزلی شامل ہیں جبکہ منٹ مرر نے 75 ملازمین میں 9 برطرفیاں بتائی ہیں۔

فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے اسلام آباد زون نے محکمانہ قواعد کی خلاف ورزی، بدانتظامی اور عوامی شکایات پر درجنوں ملازمین کے خلاف داخلی تادیبی کارروائی مکمل کی ہے۔
کارروائی کے اعداد و شمار دو رپورٹوں میں مختلف ہیں۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق 76 محکمانہ سزائیں دی گئیں جن میں 10 ملازمین کی برطرفی اور آٹھ کی تنزلی شامل ہے۔ منٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق 75 ملازمین کے خلاف کارروائی ہوئی جن میں نو برطرف، آٹھ تنزلی اور 58 دیگر محکمانہ سزائیں شامل ہیں۔
دونوں رپورٹوں میں اس بات پر اتفاق ہے کہ کارروائی عوامی شکایات اور دیگر سرکاری امور کی انکوائریوں کے بعد کی گئی اور متعلقہ ملازمین کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا اور حتمی احکامات جاری کرنے سے پہلے انہیں ذاتی طور پر سنا گیا۔
منٹ مرر کے مطابق ایف آئی اے کے ترجمان نے کہا کہ تادیبی فیصلے متعلقہ ریکارڈ اور دستیاب شواہد کا جائزہ لینے کے بعد کیے گئے۔ ترجمان نے کہا کہ کسی ملازم کو اپنا دفاع کرنے کا موقع دیے بغیر سزا نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ڈائریکٹر ایف آئی اے اسلام آباد زون نے بہترین کارکردگی پر تین افسران کو تعریفی اسناد بھی پیش کیں اور کہا کہ ادارہ نظم و ضبط اور احتساب کو جاری رکھے گا اور بدعنوانی یا قواعد کی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
یہ تادیبی کارروائی ادارے کے داخلی احتساب کے قواعد کے تحت کی گئی جن کے تحت انکوائری کے بعد محکمانہ سزا دی جا سکتی ہے لیکن ملزم ملازمین کو سنوائی کا حق حاصل ہوتا ہے۔ منٹ مرر نے ترجمان کے حوالے سے بتایا کہ محکمہ صرف احتساب پر توجہ نہیں دے رہا بلکہ اچھی کارکردگی دکھانے والے ملازمین کی حوصلہ افزائی بھی کر رہا ہے، جس کی مثال تین افسران کو دی گئی تعریفی اسناد ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اس اقدام کو ایک بڑی احتسابی کارروائی قرار دیا لیکن سزا پانے والے ملازمین کے نام یا انفرادی شکایات کی تفصیلات نہیں دیں۔ ایف آئی اے نے رپورٹوں میں بتائی گئی مختلف تعداد کو یکجا کرتے ہوئے کوئی ایک بیان جاری نہیں کیا۔
ایف آئی اے ملک کی وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ہے جو امیگریشن، انسداد بدعنوانی، سائبر کرائم اور انسداد دہشت گردی کے معاملات دیکھتی ہے۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔