سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ راولپنڈی میں انتقال کرگئے
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج نے تعزیت کا اظہار کیا، جبکہ صدر آصف زرداری اور نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی دکھ کا اظہار کیا۔

سابق چیف آف آرمی اسٹاف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کا انتقال راولپنڈی میں ہوا ہے۔ آج نیوز کی رپورٹ کے مطابق فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)، صدر مملکت اور نائب وزیراعظم نے ان کے انتقال پر تعزیت اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج کے تمام افسران و جوانوں نے جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور ان کی عسکری خدمات، قیادت اور پاک فوج کے لیے گراں قدر خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ پاک فوج دکھ کی اس گھڑی میں مرحوم کے اہل خانہ کے غم میں برابر کی شریک ہے اور ان سے دلی تعزیت کرتی ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پاک فوج نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور سوگوار خاندان کو یہ صدمہ برداشت کرنے کے لیے صبر و ہمت عطا فرمائے۔
آج نیوز کے مطابق صدر آصف زرداری نے بھی سابق آرمی چیف کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں جگہ اور سوگواروں کو صبر جمیل عطا فرمائے۔
اردو پوائنٹ کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بھی جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا۔
دونوں رپورٹس میں مرحوم کی عمر، انتقال کی وجہ یا تاریخِ انتقال نہیں بتائی گئی، اور نہ ہی نمازِ جنازہ یا تدفین کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے آئی۔ آج نیوز کی رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ وہ کس دور میں چیف آف آرمی اسٹاف رہے، اور کسی بھی رپورٹ میں ان کے عسکری کیریئر کی تفصیل نہیں دی گئی۔
چیف آف آرمی اسٹاف پاک فوج کا سینئر ترین عہدہ ہے، اور آئی ایس پی آر فوج کا شعبہ تعلقات عامہ ہے جو فوج اور اس کی قیادت کی جانب سے بیانات جاری کرتا ہے۔
دونوں ذرائع ابلاغ نے انتقال کے حالات کی بجائے تعزیتی بیانات کو نمایاں کیا۔ فوج کی جانب سے جاری بیان اور دونوں شہری رہنماؤں کے بیانات میں کسی حقیقی نکتے پر اختلاف نہیں تھا۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔