راولپنڈی میں افسران کا ڈیٹا بیرون ملک فروخت کرنے والا گروہ گرفتار
قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا کہ اعلیٰ افسران اور بیوروکریسی کا ڈیٹا فروخت کرنے والے گروہ پکڑے گئے ہیں۔

قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے راولپنڈی میں ایک ایسا گروہ گرفتار کیا ہے جو پیسوں کے عوض اعلیٰ افسران اور بیوروکریسی کا حساس ڈیٹا بیرون ملک فروخت کر رہا تھا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق یہ انکشاف سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت سینیٹر پلوشہ خان نے کی۔
این سی سی آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر نے کمیٹی کو بتایا کہ حال ہی میں راولپنڈی میں ایک گروہ پکڑا گیا ہے جو اعلیٰ افسران کا ڈیٹا بیرون ملک فروخت کر رہا تھا، جبکہ بیوروکریسی اور اعلیٰ اداروں کی شخصیات کا حساس ڈیٹا فروخت کرنے والا ایک اور گروہ بھی گرفتار کیا گیا ہے۔
کمیٹی نے سوشل میڈیا پر نامناسب اور توہین اسلام سے متعلق مواد، کال سینٹرز کے ذریعے 172 ارب روپے کے مبینہ فراڈ اور جعلی سموں کے ذریعے مالی دھوکہ دہی کے معاملات پر بھی غور کیا۔ سینیٹر افنان اللہ نے کہا کہ توہین اسلام کے حوالے سے ثبوت ملے ہیں اور ٹک ٹاک لائیو پر انتہائی نامناسب مواد بنایا جا رہا ہے۔ این سی سی آئی اے کے اہلکار نے کہا کہ ایجنسی پی ٹی اے سے تحریری طور پر درخواست کرتی ہے۔
پی ٹی اے کے چیئرمین نے بتایا کہ ٹک ٹاک لائیو پر پاکستان میں سرکاری طور پر پابندی ہے تاہم وی پی این کے ذریعے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ معاشرے میں جان بوجھ کر ایسی چیزیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ پی ٹی اے چیئرمین نے کہا کہ کچھ ممالک نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی لگائی ہے اور انہوں نے وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری سے عمر کی حد مقرر کرنے پر ملاقات کی ہے۔ پاکستان میں روزانہ تقریباً 500 سوشل میڈیا شکایات موصول ہوتی ہیں۔ کمیٹی ارکان نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے انٹرنیٹ پر سختی پر زور دیا۔
کمیٹی نے سرکاری افسران کے لیے مخصوص میسجنگ سپر ایپ بنانے کی سفارش کی اور پی ٹی اے کو اس پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔
ایف آئی اے حکام نے کال سینٹر کے ذریعے 172 ارب روپے کے فراڈ پر بریفنگ دی۔ کمپنیوں کی ایس ای سی پی میں رجسٹریشن کرا کے فراڈ کیا گیا اور فراڈ میں چینی اور پاکستانی شہری ملوث تھے۔ رقم کریپٹو کے ذریعے بیرون ملک منتقل کی جا رہی تھی۔ این سی سی آئی اے حکام کے مطابق غیر قانونی کال سینٹرز میں چینی، ویتنامی، میانماری اور دیگر غیر ملکی شہری ملوث ہیں اور یہ سینٹرز زیادہ تر غیر ملکیوں کے ساتھ فراڈ کرتے ہیں۔ پاکستانی ان کال سینٹرز میں ملازم ہیں جبکہ کمانڈ اور زیادہ حصص غیر ملکیوں کے پاس ہیں۔ بعض متاثرین کو رقم واپس بھی کی گئی ہے۔
حکام نے بتایا کہ مقامی مالی فراڈ میں جعلی سمز استعمال ہوتی ہیں جو اکثر بزرگ خواتین کے نام پر جاری کی جاتی ہیں جنہیں علم نہیں ہوتا۔ فراڈ روکنے کے لیے سمز کے اجرا پر کولنگ پیریڈ نافذ کیا گیا ہے لیکن وزیر مملکت برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ نے کہا کہ اس سے ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز متاثر ہو رہی ہیں۔
جاز کی جانب سے اضافی چارجز کے معاملے پر پی ٹی اے چیئرمین نے کہا کہ پاکستان میں فی صارف ماہانہ اوسط 300 روپے وصولی خطے میں سب سے کم ہے اور پی ٹی اے ہر پیکج کا جائزہ لیتی ہے۔ جاز اوور چارجنگ کے لیے سینیٹر افنان اللہ کی سربراہی میں ذیلی کمیٹی تشکیل دی گئی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔