گوہر علی خان نے کور اور سیاسی کمیٹیوں کو نظر انداز کرنے کی خبروں کی تردید کی
پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا اور پارٹی کے تمام فیصلے اب بھی دونوں کمیٹیاں کرتی ہیں

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ پارٹی کی کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کو فیصلہ سازی میں نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر کوئی اجلاس ہی منعقد نہیں ہوا۔
چینل سے گفتگو میں بیرسٹر گوہر علی خان نے ایسی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا۔ انہوں نے بتایا کہ کور کمیٹی، سیاسی کمیٹی اور پارلیمانی پارٹی پارٹی کے الگ الگ ادارے ہیں۔
ان کے بقول پارٹی کے تمام فیصلے کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی ہی کرتی ہیں۔ دونوں کمیٹیوں کی تیار کردہ تجاویز پارلیمانی پارٹی کے سامنے پیش کی جاتی ہیں، جہاں اراکینِ اسمبلی کی تجاویز بھی زیرِ غور آتی ہیں۔ انہوں نے دہرایا کہ کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی تمام پارٹی فیصلے کر رہی ہیں اور ان خبروں کو مسترد کیا کہ انہیں عمل سے خارج کر دیا گیا ہے۔
اے آر وائی نیوز نے اس گفتگو کو چینل کے ساتھ خصوصی گفتگو قرار دیا۔ آج نیوز نے بھی پارٹی کمیٹیوں اور مذاکرات کے حوالے سے ان کے ریمارکس نشر کیے۔
اے آر وائی نیوز کے مطابق بیرسٹر گوہر علی خان نے اس سے قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں کو بتایا تھا کہ پارٹی کے بانی عمران خان نے محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کی اجازت دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی نوعیت کے اقدامات کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت ہوئی اور اس دوران کوئی تلخی یا تناؤ نہیں تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ ایک بار ہمیشہ کے لیے حل ہونا چاہیے اور پارلیمنٹ کو مضبوط بنایا جانا چاہیے۔
بیرسٹر گوہر علی خان نے الزام لگایا کہ ایک گروہ پی ٹی آئی اور ایک بڑے ریاستی ادارے کے درمیان دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے پاک فوج کی قربانیوں کو بھی تسلیم کیا۔
خیبر پختونخوا کی سیاسی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کسی چھوٹے صوبے کے وزیراعلیٰ کو اٹھانے سے صورتحال بہتر نہیں ہوگی۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پارٹی کا لانگ مارچ اختتام پذیر ہونا چاہیے، جس کے بعد بشریٰ بی بی سے ملاقاتوں کی اجازت دی جانی چاہیے اور پارٹی بانی کی بہنوں کو رہا کیا جانا چاہیے۔
رپورٹس میں وفاقی حکومت، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ یا خیبر پختونخوا انتظامیہ کا کوئی موقف شامل نہیں تھا اور پی ٹی آئی چیئرمین کے ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

فخر زمان کی سنچری، 4 ہزار ایک روزہ رنز کا سنگ میل بھی عبور
پاکستان کے بلے باز نے یہ سنگ میل اپنے 97ویں ایک روزہ میچ میں عبور کیا اور 4 ہزار ایک روزہ رنز بنانے والے ملک کے 16ویں بلے باز بن گئے۔