مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

گوہر خان کے وفد کی فضل الرحمان سے ملاقات، قومی اسمبلی تقریر کی تائید

اعلامیے میں حکومتی وزراء کی جانب سے کردار کشی کی مذمت اور عمران خان کی بہنوں کو اہل خانہ اور وکلا سے ملنے کی اجازت نہ دینے پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ

تحریک تحفظ آئین پاکستان کے ایک وفد نے، جس کی قیادت بیرسٹر گوہر خان کر رہے تھے، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور قومی اسمبلی میں ان کی حالیہ تقریر کی بھرپور تائید کی۔ یہ بات ملاقات کے بعد جاری ہونے والے اعلامیے کے حوالے سے ایکسپریس نیوز کی رپورٹ میں بتائی گئی۔

رپورٹ کے مطابق وفد میں اسد قیصر اور حسین احمد یوسفزئی بھی شامل تھے۔ رپورٹ میں ملاقات کی تاریخ نہیں بتائی گئی اور جگہ کے بارے میں صرف یہ کہا گیا کہ ملاقات مولانا فضل الرحمان کی رہائش گاہ پر ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ وفد قومی اسمبلی میں مولانا فضل الرحمان کی تقریر کی بھرپور تائید کرتا ہے اور حکومتی وزراء کی جانب سے ان کی کردار کشی کی شدید مذمت کرتا ہے۔ اعلامیے کے مطابق سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں اور کردار کشی میں تبدیل کرنا جمہوری اقدار کے منافی ہے اور سیاسی قیادت کے احترام کو ہر صورت ملحوظ رکھا جائے۔

وفد نے پی ٹی آئی کے بانی چیئرمین عمران خان کی بہنوں کی قید کی بھی مذمت کی اور کہا کہ انہیں بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔ اعلامیے میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ انہیں اہل خانہ اور وکلا تک رسائی نہیں دی گئی۔

اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ اگر کوئی ناخوشگوار صورتحال پیدا ہوئی تو اس کی ذمہ داری متعلقہ حکام پر عائد ہوگی۔ اس حوالے سے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، صوبائی اسمبلی کے اسپیکر بابر سلیم سواتی اور جنید اکبر کا نام لیا گیا، تاہم یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ہر ایک سے کیا مطالبہ کیا گیا۔

اردو پوائنٹ اور ایکسپریس نیوز دونوں نے ملاقات کی خبر دی۔ اردو پوائنٹ کی سرخی میں وفد کی جانب سے مولانا فضل الرحمان کی قومی اسمبلی تقریر کی تائید کو نمایاں کیا گیا، جبکہ ایکسپریس نیوز نے کردار کشی کی مذمت کو نمایاں کرتے ہوئے اعلامیے کی اس بات کا حوالہ دیا کہ سیاسی اختلافات کو ذاتی حملوں میں تبدیل نہیں ہونا چاہیے۔

کسی بھی رپورٹ میں خود مولانا فضل الرحمان، اعلامیے میں مذکور حکومتی وزراء یا نامزد کیے گئے تین عہدیداروں کی جانب سے کوئی بیان شامل نہیں تھا۔

تحریک تحفظ آئین پاکستان وہ تحریک ہے جس کا اعلان عمران خان کی جماعت نے آئین کے تحفظ کے حوالے سے کیا تھا، اور یہ وفد ایسے وقت میں مذاکرات کے لیے پہنچا جب پی ٹی آئی اور وفاقی حکومت کے درمیان پارٹی کے قید بانی چیئرمین اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ سلوک پر کشیدگی جاری ہے۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔