موٹروے پولیس کے 2,007 تکنیکی عہدے ختم، قومی اسمبلی کو بتایا گیا
پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے کہا کہ یہ فیصلہ کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے وفاقی رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت کیا ہے۔

اسلام آباد: پارلیمانی سیکرٹری برائے مواصلات گل اصغر خان نے جمعرات کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ حکومت نے نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس کے 2,007 تکنیکی عہدے رائٹ سائزنگ پالیسی کے تحت ختم کر دیے ہیں۔
انہوں نے یہ بات موٹروے پولیس کے تکنیکی عملے کے پرانے سروس اسٹرکچر کے خاتمے سے متعلق ایک توجہ دلا نوٹس کے جواب میں کہی۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کے مطابق نوٹس میں کہا گیا تھا کہ اس تبدیلی سے ترقیاں رک گئی ہیں اور ملازمین کے کیریئر پر منفی اثر پڑا ہے۔
ڈیلی ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ختم کیے گئے عہدوں میں پلمبر، الیکٹریشن اور دیگر تکنیکی عملہ شامل ہے۔ گل اصغر خان نے کہا کہ کابینہ نے ختم ہونے والے کیڈروں کے خاتمے کی ہدایات جاری کیں اور وزارت مواصلات نے ان ہدایات کے تحت یہ عہدے ختم کیے۔
انہوں نے بتایا کہ وزارت اس سے قبل ان کیڈروں میں کام کرنے والے ملازمین کو ترقیاں دے چکی ہے۔ وزیراعظم کی ہدایت پر قائم ہونے والی رائٹ سائزنگ کمیٹی نے تجویز دی کہ ختم ہونے والے کیڈر ختم کیے جائیں اور جہاں ممکن ہو خدمات آؤٹ سورس کی جائیں تاکہ وفاقی حکومت پر بوجھ کم ہو۔
پارلیمانی سیکرٹری نے کہا کہ یہ فیصلہ کابینہ اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے کیا ہے اور وزارت اسے خود سے واپس نہیں لے سکتی۔ ان کے مطابق باقی ملازمین مقررہ سروس کی مدت پوری کرنے کے بعد موجودہ پالیسی کے تحت ترقی پا سکتے ہیں۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق دورانِ کارروائی رکن قومی اسمبلی نیلم نے درخواست کی کہ معاملہ مزید غور کے لیے حکومت کو واپس بھیجا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تکنیکی عملہ طویل عرصے سے ان کیڈروں میں خدمات انجام دے رہا ہے اور یہ معاملہ کابینہ کی سطح پر زیر بحث آنا چاہیے۔
جواب میں گل اصغر خان نے کہا کہ رائٹ سائزنگ پالیسی تمام وفاقی وزارتوں پر لاگو ہے اور صرف وزارت مواصلات یا نیشنل ہائی ویز اینڈ موٹروے پولیس تک محدود نہیں۔
موٹروے پولیس کا تکنیکی عملہ گاڑیوں، آلات اور شاہراہوں کے کنارے موجود انفراسٹرکچر کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ رائٹ سائزنگ مہم وفاقی سطح پر ان اداروں کو کم کرنے کی کوشش کا حصہ ہے جنہیں حکومت غیر ضروری سمجھتی ہے، اور جہاں ممکن ہو خدمات ٹھیکے پر دینے کی پالیسی کا بھی۔
وزارت مواصلات یا اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے متاثرہ عہدوں کی تعداد یا ان میں کام کرنے والے ملازمین کے مستقبل کے بارے میں الگ کوئی بیان جاری نہیں کیا۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔