مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی کردی

وزارت پیٹرولیم کے نوٹیفکیشن کے مطابق 25 ستمبر کے لیے پیٹرول 389 روپے 28 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 412 روپے 12 پیسے فی لیٹر مقرر

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی کردی

وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل تیسرے روز کمی کرتے ہوئے 25 ستمبر کے لیے نئی قیمتوں کا اعلان کردیا۔ وزارت پیٹرولیم کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 84 پیسے کمی کی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 389 روپے 28 پیسے مقرر ہوئی ہے۔ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 2 روپے 63 پیسے کمی کی گئی ہے اور نئی قیمت 412 روپے 12 پیسے فی لیٹر ہوگئی ہے۔

ایکسپریس نیوز کی رپورٹ کے مطابق اوگرا نے عالمی سطح پر پلاٹس ریٹس، پریمیم اور دیگر عوامل میں تبدیلی کے باعث قیمتوں میں ردوبدل کیا ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے 25 ستمبر کے لیے ہوگا۔

دوسری جانب آج نیوز نے 24 ستمبر کے لیے جاری ہونے والے نوٹیفکیشن کے حوالے سے بتایا کہ اس میں پیٹرول 1 روپے 93 پیسے سستا کرکے 390 روپے 12 پیسے اور ہائی اسپیڈ ڈیزل 4 روپے 21 پیسے کم کرکے 414 روپے 75 پیسے فی لیٹر کیا گیا تھا۔ یہ مسلسل دوسرے روز کی کمی تھی۔

وزارت پیٹرولیم کے مطابق عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں اور مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ حکومت نے روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں کا تعین کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ہفتہ اور اتوار کو قیمتیں برقرار رہتی ہیں۔

آج نیوز کے مطابق ستمبر کے ابتدائی 23 دنوں میں پیٹرول کی فی لیٹر قیمت میں 53 روپے 04 پیسے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 59 روپے 93 پیسے اضافہ ہوچکا تھا۔ 17 جولائی سے اب تک پیٹرول کی قیمت میں 17 مرتبہ کمی اور 28 مرتبہ اضافہ جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 14 مرتبہ کمی اور 31 مرتبہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

13 ستمبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے موٹرسائیکل، رکشہ، چنگچی اور 800 سی سی تک کی گاڑیوں کے صارفین کے لیے فی لیٹر پیٹرول پر 100 روپے ریلیف دینے کا اعلان کیا تھا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔