مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

حکومت کا پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں سے غیر رسمی رابطہ، رانا ثناءاللہ

وزیرِاعظم کے مشیر نے کہا ہے کہ ٹیلی فون اور پارلیمنٹ کے اجلاسوں کے دوران ہونے والے یہ رابطے اس وقت باقاعدہ مذاکرات میں بدل سکتے ہیں جب پی ٹی آئی اپنی پالیسی بدلنے کا اشارہ دے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
حکومت کا پی ٹی آئی کے بعض رہنماؤں سے غیر رسمی رابطہ، رانا ثناءاللہ
Facebook/RanaSanaUllahOfficial, file

وزیرِاعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ حکومت کا پاکستان تحریکِ انصاف کے بعض رہنماؤں سے ”غیر رسمی“ رابطہ جاری ہے، تاہم انہوں نے نام ظاہر کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ انکشاف سے ان افراد کی اپنی پارٹی میں ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام ”آج شاہزیب خانزادہ کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ یہ رابطے وقتاً فوقتاً ٹیلی فون پر اور قومی اسمبلی و سینیٹ کے اجلاسوں کے دوران بھی ہوتے ہیں۔ ان کے بقول جب یہ بات چیت ٹھوس شکل اختیار کر لے گی تو حکومت باقاعدہ اور ریکارڈ پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

اس سوال پر کہ غیر رسمی رابطے باقاعدہ مذاکرات کا روپ کیوں نہیں لے رہے، انہوں نے پی ٹی آئی کے اندر مذاکراتی عمل پر اختلافات کی طرف اشارہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کے اجلاسوں میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ مذاکراتی عمل کو ”سبوتاژ“ کیا گیا، اور دعویٰ کیا کہ پارٹی کے بعض افراد جو مذاکرات کامیاب دیکھنا چاہتے تھے انہیں ٹرولنگ اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے وہ کھل کر بات نہیں کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ رکے ہوئے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کا مناسب پہلا قدم وزیرِاعظم کی بحیثیت قائدِ ایوان اور قائدِ حزبِ اختلاف محمود خان اچکزئی کی ملاقات ہو گی۔ قائدِ حزبِ اختلاف کی وزیرِاعظم ہاؤس میں وزیرِاعظم سے ملاقات سے ہچکچاہٹ کو انہوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس مؤقف میں ”کوئی منطق“ نہیں، اور یاد دلایا کہ وزیرِاعظم شہباز شریف جب بھی ایوان آئے خود قائدِ حزبِ اختلاف کی نشست تک گئے۔

رانا ثناءاللہ نے امید ظاہر کی کہ ”عقل غالب آئے گی“ اور مذاکراتی عمل دوبارہ شروع ہو گا، اور کہا کہ سیاسی تنازعات کا حل صرف بات چیت سے ممکن ہے۔

تاہم انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی نے اب تک حکومت کو، نہ غیر رسمی رابطوں کے ذریعے اور نہ باقاعدہ طور پر، یہ اشارہ نہیں دیا کہ اس نے اپنی پالیسی یا رویہ تبدیل کیا ہے۔ ان کے مطابق ایسی بات چیت پی ٹی آئی کے اجلاسوں میں ہو رہی ہو گی، مگر کسی نے حکومت سے رابطہ کر کے یہ نہیں کہا کہ پارٹی اپنا راستہ بدلنے اور معاملات جمہوری طریقے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ قائدِ حزبِ اختلاف کو پہلے وزیرِاعظم سے ملنا چاہیے اور پی ٹی آئی کو پارلیمانی کمیٹیوں میں واپس آنا چاہیے جن کا اس نے بائیکاٹ کیا ہوا ہے جبکہ وہ ایوان میں بیٹھی ہوئی ہے۔ ان کے بقول پارٹی کے اندر جاری بحث جب آگے بڑھنے کا ”واضح طریقہ“ بن جائے گی تو پی ٹی آئی کے ارادوں پر اعتماد پیدا ہو سکے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔

کھیل

فخر زمان کی سنچری، 4 ہزار ایک روزہ رنز کا سنگ میل بھی عبور

پاکستان کے بلے باز نے یہ سنگ میل اپنے 97ویں ایک روزہ میچ میں عبور کیا اور 4 ہزار ایک روزہ رنز بنانے والے ملک کے 16ویں بلے باز بن گئے۔