مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات مکمل عام نہیں ہوں گی

وزیر خزانہ سیکرٹری نے قومی اسمبلی کمیٹی کو بتایا کہ آئی ایم ایف شرائط پوری کرنے کے لیے دسمبر تک صرف منتخب معلومات جاری کی جائیں گی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک1 منٹ کا مطالعہ
سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی تفصیلات مکمل عام نہیں ہوں گی

اسلام آباد: حکومت نے سکیورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری ملازمین کے اثاثوں کی مکمل تفصیلات عام نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کی بجائے رواں سال دسمبر تک صرف منتخب معلومات جاری کی جائیں گی۔ یہ اعلان فنانس سیکرٹری امداد اللہ بوسال نے جمعرات کو قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کو بریفنگ کے دوران کیا۔

ڈان اور پاکستان ٹوڈے کی رپورٹس کے مطابق اس اعلان پر ارکان پارلیمنٹ نے فوری سوال اٹھائے اور پوچھا کہ بیوروکریٹس کو عوامی احتساب کے اسی معیار پر کیوں نہیں رکھا جاتا جو منتخب نمائندوں پر لاگو ہوتا ہے۔

ڈان کے مطابق فنانس سیکرٹری نے کہا کہ بی ایس-17 اور اس سے اوپر کے افسران کے اثاثوں کی منتخب معلومات بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط پوری کرنے کے لیے دسمبر تک عام کر دی جائیں گی۔ حکومت نے مکمل اثاثہ جات کے گوشوارے شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور دلیل دی ہے کہ مکمل انکشاف سے افسران کی سکیورٹی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان ٹوڈے نے بھی یہی خبر دی کہ سرکاری ملازمین کے اثاثے دسمبر تک جزوی طور پر عام ہوں گے۔

ڈان کی رپورٹ کے مطابق کمیٹی کے ارکان نے حکومت کے موقف کو چیلنج کیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سیاستدان اپنے اثاثوں کا اعلان کرنے کے پابند ہیں اور پوچھا کہ بیوروکریٹس کے لیے مختلف اصول کیوں رکھا گیا ہے۔ فنانس سیکرٹری نے یہ بات قومی اسمبلی کی اس کمیٹی کے سامنے کہی جو خزانہ اور محصولات کے معاملات دیکھتی ہے اور یہ فیصلہ وفاقی سطح کے سرکاری ملازمین پر اثر انداز ہوگا۔

فنانس سیکرٹری کے یہ ریمارکس ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ اپنی وابستگی کی شرائط پوری کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ جزوی انکشاف کے منصوبے کا مطلب ہے کہ سال کے آخر تک عوام کو سینئر سرکاری افسران کے اثاثوں کی صرف منتخب تفصیلات تک رسائی ہوگی، نہ کہ مکمل گوشواروں تک۔

ابھی تک یہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں کہ اثاثہ جات کے اعلانات کے کن حصوں کو جاری کیا جائے گا یا روکا جائے گا، اور نہ ہی یہ واضح ہے کہ جزوی انکشاف سے کتنے افسران متاثر ہوں گے۔ حکومت نے فوری طور پر یہ تحریری بیان بھی جاری نہیں کیا کہ اثاثوں کی کون سی اقسام کو شائع کرنے کے لیے زیادہ حساس سمجھا جائے گا۔ پاکستان ٹوڈے کی رپورٹ میں بھی اس سے زیادہ تفصیل نہیں دی گئی۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔