حکومت کا نجکاری کمیشن اور پی تھری اے کو ضم کرنے کا بل پیش
پروفٹ نے اسے حکومتی تجویز قرار دیا جبکہ ڈان کی سرخی میں بل پیش کیے جانے کا کہا گیا، دونوں رپورٹس میں بل کا متن موجود نہیں۔
وفاقی حکومت نے نجکاری کمیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی (پی تھری اے) کو ایک ہی ادارے میں ضم کرنے کی طرف قدم بڑھایا ہے، جس کی اطلاع دو رپورٹس میں دی گئی ہے۔
پروفٹ کی رپورٹ کے مطابق حکومت نے دونوں اداروں کے انضمام کی تجویز دی ہے۔ دوسری رپورٹ، جو ڈان کی سرخی ہے اور ایگریگیٹر یو اے نیوز پر نشر ہوئی، کے مطابق نجکاری کمیشن اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اتھارٹی کو ضم کرنے کا بل پیش کر دیا گیا ہے۔ کسی بھی رپورٹ میں مجوزہ قانون کا متن، بل پیش کرنے والا وزیر یا وفاقی ڈویژن، یا انضمام کے نفاذ کی تاریخ نہیں بتائی گئی۔
یہ بھی واضح نہیں کہ نجکاری کمیشن پی تھری اے کو اپنے اندر ضم کرے گا، اتھارٹی اس کے ماتحت ونگ کی صورت میں برقرار رہے گی، یا دونوں کی جگہ کوئی نیا ادارہ قائم کیا جائے گا۔
نجکاری کمیشن وہ وفاقی ادارہ ہے جو سرکاری کاروباری اداروں کی فروخت کا کام دیکھتا ہے، اور حکومت اس پروگرام کو اپنے معاشی اصلاحاتی ایجنڈے کا مرکزی حصہ قرار دیتی رہی ہے۔ پی تھری اے وہ اتھارٹی ہے جو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ معاہدوں کے ذریعے نجی سرمایہ کاری کو سرکاری انفراسٹرکچر منصوبوں کی طرف لگانے کے لیے قائم کی گئی تھی، اور یہ ماڈل سڑکوں، توانائی اور ٹرانسپورٹ منصوبوں میں استعمال ہوتا رہا ہے۔
دونوں اداروں کو یکجا کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ سرکاری اثاثوں کی فروخت اور شراکت داری کے معاہدوں کا کام ایک ہی ادارے کے پاس آ جائے گا، تاہم رپورٹس میں حکومت کی طرف سے اس تبدیلی کی کوئی وجہ، متوقع بچت یا عملے اور زیرِ التوا معاملات کے حوالے سے کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی۔
پاکستان کی پارلیمانی کارروائی کے مطابق کسی بل کو قانون بننے کے لیے ایوان زیریں اور ایوان بالا دونوں کی منظوری اور صدر کی منظوری درکار ہوتی ہے۔ رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ بل کس ایوان میں پیش ہوا، کیا اسے کسی قائمہ کمیٹی کے حوالے کیا گیا، یا اسے کب پیش کیے جانے کی توقع ہے۔
پروفٹ نے اپنی رپورٹ کی سرخی میں لکھا کہ حکومت نے نجکاری کمیشن اور پی تھری اے کے انضمام کی تجویز دی ہے، جبکہ یو اے نیوز پر گردش کرنے والی ڈان کی سرخی میں کہا گیا کہ انضمام کے لیے بل پیش کیا گیا۔ ایک رپورٹ میں تجویز اور دوسری میں پیش شدہ بل کا فرق دستیاب مواد سے حل نہیں ہو سکا، اور سکردو ٹائمز آزادانہ طور پر اس مرحلے کی تصدیق نہیں کر سکا جس تک یہ قانون سازی پہنچی ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔