مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

حکومت کاروباری ضوابط آسان بنانے پر کام کر رہی ہے، ہارون اختر خان

وزیر صنعت نے کون سے ضوابط ختم ہوں گے اور کب، اس کی تفصیل نہیں دی، جبکہ ایس آئی ایف سی کاروباری برادری سے مشاورت بڑھا رہی ہے اور وزیر توانائی نے سینیٹ میں بجلی ریلیف کی تجویز بتائی۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
حکومت کاروباری ضوابط آسان بنانے پر کام کر رہی ہے، ہارون اختر خان

حکومت کاروباری ضوابط کا جائزہ لے رہی ہے تاکہ غیر ضروری قواعد ختم کیے جا سکیں اور طریقہ کار آسان بنایا جا سکے، حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد پاکستان کو ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے زیادہ سازگار مقام بنانا ہے۔ یہ بات وزیراعظم کے مشیر اور وفاقی وزیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے پیر کے روز کہی۔

ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق ہارون اختر خان نے کہا کہ حکومت غیر ضروری ضوابط کے خاتمے اور کاروباری طریقہ کار کو آسان بنانے پر کام کر رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کون سے ضوابط زیرِ غور ہیں، کون سے شعبے متاثر ہوں گے یا تبدیلیاں کب نافذ ہوں گی۔

اسی ایجنسی کی ایک الگ رپورٹ کے مطابق اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کاروباری برادری کے ساتھ رابطے بڑھا رہی ہے تاکہ کاروباروں کے سامنے آنے والے مسائل حل کیے جا سکیں، کاروبار کرنے میں آسانی بہتر ہو اور تجارت، سرمایہ کاری اور کاروباری ترقی کے لیے سازگار ماحول بنایا جا سکے۔ اس رپورٹ میں بھی یہ تفصیل نہیں دی گئی کہ کن کاروباری اداروں سے مشاورت کی گئی، انہوں نے کیا مطالبہ کیا یا کیا طے ہوا۔

دونوں بیانات میں سرمایہ کاری کی آمد، ختم کیے جانے والے ضوابط کی تعداد یا تبدیلیوں کے متوقع اخراجات کے بارے میں کوئی اعداد و شمار نہیں دیے گئے، اور رپورٹس کے مطابق کسی بیان کے ساتھ کوئی نوٹیفکیشن یا پالیسی دستاویز جاری نہیں کی گئی۔

ادھر وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے منگل کے روز سینیٹ کو بتایا کہ حکومت 250 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے گھرانوں تک بجلی ریلیف بڑھانے پر غور کر رہی ہے اور ایسا نظام تیار کر رہی ہے جس میں اہلیت کا تعین صرف بجلی کی کھپت کی بجائے مالی ضرورت کی بنیاد پر کیا جائے گا۔ منٹ مرر کی رپورٹ کے مطابق لغاری نے کہا کہ مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ بجلی کی سبسڈی کم آمدنی والے گھرانوں تک پہنچے، نہ کہ خوشحال صارفین کو فائدہ پہنچے۔

اخبار کی سرخی میں "200 یونٹ سے زائد" کا ذکر تھا، جبکہ سینیٹ اجلاس سے متعلق اس کی رپورٹ کے مطابق تجویز 250 یونٹ ماہانہ تک بجلی استعمال کرنے والے گھرانوں پر لاگو ہوگی۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ توسیع شدہ ریلیف پر کتنا خرچ آئے گا، مالی ضرورت کا اندازہ کیسے لگایا جائے گا یا فیصلہ کب ہو سکتا ہے۔

یہ بیانات لگاتار دو دنوں میں سامنے آئے اور ان میں منظور شدہ اقدامات کی بجائے پالیسی کی سمت بتائی گئی ہے۔ ڈی ریگولیشن کے جائزے اور بجلی سبسڈی کی تجویز، دونوں پر عمل درآمد کے لیے انتظامی یا کابینہ کی منظوری درکار ہوگی، اور رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کوئی تجویز وفاقی کابینہ کے سامنے رکھی گئی ہے یا نہیں۔

پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول حکومتی بیانات کا بار بار موضوع رہا ہے، وزراء نے طریقہ کار کم کرنے اور غیر ملکی سرمایہ کاری متوجہ کرنے کے وعدے دہرائے ہیں، تاہم ایسے اعلانات اکثر عملی منصوبے شائع کیے بغیر سامنے آتے رہے ہیں۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔