مہمند میں پولیو ڈیوٹی پر جانے والے دو پولیس اہلکار شہید
پنڈیالئی تحصیل کے علاقے دگ تمنزئی میں ہاشم کور چوکی کے قریب فائرنگ، ایک اہلکار زخمی، پولیس نے سرچ آپریشن شروع کر دیا

خیبر پختونخوا کے ضلع مہمند میں منگل کے روز نامعلوم مسلح افراد نے پولیو مہم کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر فائرنگ کر دی، جس سے دو اہلکار شہید اور ایک زخمی ہو گیا۔ یہ اطلاع پولیس نے دی۔
ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس لیاقت علی نے ڈان کو بتایا کہ فائرنگ پنڈیالئی تحصیل کے علاقے دگ تمنزئی میں ہاشم کور پولیس چوکی کے قریب ہوئی۔ انہوں نے شہید ہونے والے کانسٹیبلوں کی شناخت ظہور خان اور اربائی خان کے نام سے کی۔ دستیاب رپورٹوں میں زخمی اہلکار کا نام نہیں بتایا گیا۔
جیو نیوز کے مطابق پولیس اہلکار جاری ویکسینیشن مہم میں سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے کہ ان پر فائرنگ کی گئی۔ چینل نے بتایا کہ پولیس نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سنٹر کے حوالے سے جیو نیوز نے بتایا کہ یہ ذیلی پولیو مہم 2 نومبر کو شروع ہوئی اور 8 نومبر تک جاری رہے گی، جس کا ہدف 97 اضلاع میں تقریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں تک پہنچنا ہے۔
جیو نیوز نے حملہ آوروں کو ”مخالف عناصر“ قرار دیا اور کہا کہ ایسے عناصر خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ویکسینیشن مہم کو سبوتاژ کرنے کے لیے پولیو ٹیموں کو نشانہ بناتے ہیں۔ کسی بھی رپورٹ میں حملے کی ذمہ داری کا دعویٰ موجود نہیں تھا۔
اس سے قبل بھی پولیو ٹیموں کی حفاظت پر مامور پولیس اہلکاروں پر حملے ہوئے ہیں۔ جیو نیوز کے مطابق ستمبر میں بلوچستان کے ضلع نوشکی میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے پولیو ٹیم کے ساتھ تعینات دو پولیس اہلکار شہید ہو گئے تھے۔
جیو نیوز نے یہ بھی بتایا کہ پولیو ایک انتہائی متعدی مرض ہے جس کا کوئی علاج نہیں، یہ عمر بھر کی معذوری اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتا ہے، تاہم 195 ممالک میں استعمال ہونے والی محفوظ اور مؤثر ویکسین سے اسے روکا جا سکتا ہے۔
چینل کے مطابق پاکستان میں رواں سال وائلڈ پولیو وائرس ٹائپ 1 کے آٹھ کیسز سامنے آئے ہیں، جن میں چھ خیبر پختونخوا اور دو سندھ میں رپورٹ ہوئے۔
رپورٹوں میں فرق
ڈان نے شہید ہونے والے دونوں کانسٹیبلوں ظہور خان اور اربائی خان کے نام اور تصدیق کرنے والے افسر ہیڈ کوارٹرز ڈی ایس پی لیاقت علی کا نام دیا، اور واقعہ کو پنڈیالئی تحصیل کے علاقے دگ تمنزئی میں ہاشم کور پولیس چوکی کے قریب قرار دیا۔ جیو نیوز نے نہ نام دیے اور نہ چوکی کا ذکر کیا، اور مقام صرف دگ تمنزئی بتایا۔ جیو نیوز کی سرخی نے اسے پولیو ٹیم پر حملہ کہا اور اس کی رپورٹ میں سرچ آپریشن، مہم کی تاریخوں اور ہدف اور ستمبر میں نوشکی کی فائرنگ کا اضافہ تھا، جبکہ ڈان کی سرخی کے مطابق پولیس اہلکار پولیو ڈیوٹی کے لیے جا رہے تھے۔

پولیو ٹیموں کی حفاظت: پنجاب میں 1,000 سے زائد پولیس اہلکار تعینات
چار روزہ مہم کے لیے پنجاب کی تعیناتی اے پی پی نے رپورٹ کی، جبکہ کراچی میں 8,000 سے زائد اہلکار تعینات کرنے کی خبر دی ہندو نے دی۔

خیبر میں پولیو کا نیا کیس، رواں سال آٹھویں کیس کی تصدیق
نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق 2 نومبر سے 8 نومبر تک 97 اضلاع میں مہم چلے گی جس میں پانچ سال سے کم عمر کے تقریباً 24 ملین بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے

منسہرہ کے اسسٹنٹ کمشنر نوشہرہ میں فائرنگ سے زخمی
پولیس کے مطابق عادل وسیم چراغ روڈ پر جالوزئی پناہ کوٹ کے قریب اپنے آبائی گاؤں سے پشاور جاتے ہوئے زخمی ہوئے، لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں ان کی حالت مستحکم بتائی گئی۔

ایبٹ آباد میں 217,917 بچوں کے لیے پولیو مہم شروع
ضلع بھر کی 54 یونین کونسلوں میں 1,685 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں جن میں 1,570 موبائل ٹیمیں گھر گھر جا کر پانچ سال سے کم عمر بچوں کو قطرے پلائیں گی۔

کھاد کی فراہمی میں رکاوٹ، چشمہ شوگر ملز کی خیبر پختونخوا کے گورنر سے شکایت
مل کے سینیئر ڈائریکٹر اسکندر خان کا کہنا ہے کہ وزارت داخلہ کے ایس آر او کے تحت کھاد کمپنیوں کو خیبر پختونخوا اور بلوچستان کھاد بھیجنے سے روکا گیا ہے، جبکہ ربیع کی بوائی جاری ہے۔

بابوسر راستے پر شدید برفباری، کے پی اور گلگت بلتستان کے درمیان سڑک بند
پولیس کے مطابق مانسہرہ ناران جلقھد روڈ ناران تک صاف کر دی گئی ہے، تاہم سیاحوں کو موسم بہتر ہونے تک بابوسر ٹاپ کی طرف جانے کی اجازت نہیں

کے پی کے 14 محکموں کے آڈٹ میں 3.58 ارب روپے کی بے ضابطگیاں
مالی سال 2024-25 کے کمپلائنس آڈٹ کی رپورٹ میں 1.205 ارب روپے کے مشکوک ٹھیکے اور 908.1 ملین روپے کی زائد ادائیگیاں درج ہیں۔

خیبر پختونخوا میں سات گرلز اسکول بند، اساتذہ کی کمی اور سکیورٹی خدشات وجہ قرار
تین نیوز اداروں نے ایک ہی رپورٹ شائع کی، مگر کسی ضلع، بندش کی تاریخ یا حکم دینے والے افسر کا نام نہیں بتایا گیا