مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

حرمین شریفین کی سلامتی ریڈ لائن ہے، وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب

وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب پر حوثی حملوں کی مذمت کی اور آبنائے ہرمز اور باب المندب کو عالمی معیشت کے لیے کھلا رکھنے پر زور دیا۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
حرمین شریفین کی سلامتی ریڈ لائن ہے، وزیراعظم کا اقوام متحدہ میں خطاب

وزیراعظم شہباز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ حرمین شریفین کی سلامتی اور تقدس کو لاحق کوئی بھی خطرہ ریڈ لائن ہے جسے عبور نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے سعودی عرب پر حالیہ حوثی حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ مکہ مکرمہ کو ڈرون حملے کا نشانہ بنانے کی کوشش نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو شدید غم و غصے میں مبتلا کیا ہے۔ یہ بات انڈپینڈنٹ اردو نے رپورٹ کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی امن سے دیرینہ وابستگی سعودی عرب، ترکی اور پاکستان کے درمیان تاریخی مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے سے ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے فوجی تصادم کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینے پر زور دیا اور کہا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب عالمی معیشت کی اہم گزرگاہیں ہیں اور انہیں کھلا رہنا چاہیے۔

انہوں نے امریکہ اور ایران کو اسلام آباد میں مذاکرات کی میز پر لانے کی پاکستانی کوششوں کو اجاگر کیا اور اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو تنازع کے خاتمے کی جانب تاریخی اقدام قرار دیا۔ چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی سفارت کاری کے لیے گنجائش پیدا کرنے کی کوششوں کو سراہا اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے کردار کی تعریف کی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ یہ جنرل اسمبلی سے ان کا چوتھا خطاب تھا، انہوں نے صدر جنرل اسمبلی خلیل الرحمان کو مبارکباد دی اور پاکستان کی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ انہوں نے قائداعظم محمد علی جناح کے اقوام متحدہ کے چارٹر سے وابستگی کے عزم کا ذکر کیا اور پاکستان کی صدارت میں منظور ہونے والی سلامتی کونسل کی قرارداد 2788 کو عالمی امن کے لیے پاکستان کے عزم کا اظہار قرار دیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق انہوں نے کہا کہ رواں برس فروری میں خلیج میں پیدا ہونے والے تنازع سے قیمتی جانی نقصان ہوا اور معیشت مشکلات کا شکار ہوئی، اور پاکستان نے واشنگٹن اور تہران کو اسلام آباد میں ایک چھت تلے جمع کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کا اتحاد کسی کے خلاف نہیں ہے۔

وزیراعظم نے گزشتہ برس بھارت کی بلااشتعال جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان جنگ روکنے کے لیے بروقت مداخلت کی۔ کشمیر کے بارے میں انہوں نے کہا کہ تنازع حل ہونا چاہیے، کشمیری آٹھ دہائیوں سے حق خود ارادیت کے لیے اقوام متحدہ کی طرف دیکھ رہے ہیں، اور پاکستان اس وقت تک مکمل سفارتی، سیاسی اور اخلاقی تعاون جاری رکھے گا جب تک انہیں حق خود ارادیت حاصل نہ ہو جائے۔ انہوں نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا۔

سیاست

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا

کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

سیاست

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا

وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

سلامتی

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز

وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

صحت

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت

مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔