ایچ ای سی نے انجینئرنگ ڈگری مساوات کا وائرل نوٹیفکیشن جعلی قرار دیا
کمیشن کا کہنا ہے کہ 29 اکتوبر کی تاریخ والی دستاویز اس نے جاری نہیں کی اور طلبہ کو اسے پھیلانے سے روک دیا ہے۔

ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے ایک نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ انجینئرنگ ٹیکنالوجی کی اسناد کو روایتی انجینئرنگ ڈگریوں کے مساوی قرار دے دیا گیا ہے۔ کمیشن نے طلبہ اور گریجویٹس کو خبردار کیا ہے کہ وہ اس دستاویز پر بھروسا نہ کریں۔
پروپاکستانی کے مطابق یہ دستاویز 29 اکتوبر 2026 کی تاریخ رکھتی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ ایچ ای سی نے بیچلر آف ٹیکنالوجی (آنرز) اِن انجینئرنگ یا بی ایس سی انجینئرنگ ٹیکنالوجی (آنرز) کو بیچلر آف انجینئرنگ یعنی بی ای یا بی ایس سی انجینئرنگ ڈگری کے مساوی قرار دیا ہے۔ دستاویز میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ ڈپلومہ آف ایسوسی ایٹ انجینئرنگ (ڈی اے ای) متعلقہ انجینئرنگ شعبے میں 14 سال کی تعلیم کے برابر ہے اور اس کے حاملین یونیورسٹی کے داخلہ قواعد کی پابندی کے ساتھ بی ای، بی ایس سی انجینئرنگ اور انجینئرنگ ٹیکنالوجی پروگراموں میں لیٹرل انٹری کے اہل ہیں۔
ایچ ای سی نے تاہم واضح کیا کہ یہ نوٹیفکیشن اس نے جاری نہیں کیا اور دستاویز کو گمراہ کن قرار دیا۔ پاکستان آبزرور نے بھی رپورٹ کیا کہ کمیشن نے انجینئرنگ ڈگری کی مساوات سے متعلق وائرل نوٹیفکیشن کو جعلی قرار دیا ہے۔
کمیشن نے طلبہ، گریجویٹس، عوام اور دیگر متعلقہ افراد کو ہدایت کی کہ وہ اس گمراہ کن دستاویز پر انحصار نہ کریں اور نہ اسے پھیلائیں، بلکہ مستند معلومات اور نوٹیفکیشن کے لیے ایچ ای سی کی سرکاری ویب سائٹ اور تصدیق شدہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے رجوع کریں۔ کمیشن کے مساوات کے فیصلے ہی یہ طے کرتے ہیں کہ ایک پروگرام کے گریجویٹ دوسرے پروگرام میں داخلہ لے سکتے ہیں یا نہیں، اور آیا وہ آجرین اور ریگولیٹرز کی مقرر کردہ اہلیت کی شرائط پوری کرتے ہیں۔
رپورٹس میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ دستاویز کس نے تیار کی یا کمیشن نے معاملہ کسی اور ادارے کو بھیجا ہے یا نہیں۔ کسی یونیورسٹی یا انجینئرنگ ادارے کا بیان بھی ان رپورٹس میں شامل نہیں ہے۔
ایچ ای سی اس سے قبل بھی اپنے نام سے گردش کرنے والی دستاویزات کے بارے میں اپنی ویب سائٹ اور تصدیق شدہ اکاؤنٹس پر وضاحت جاری کرتا رہا ہے۔ تازہ ہدایت میں بھی یہی کہا گیا ہے کہ ڈگری کی شناخت اور مساوات سے متعلق نوٹیفکیشن کے لیے صرف سرکاری ذرائع کو مستند سمجھا جائے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔