اسلام آباد ہائی کورٹ: ڈی-12 میں قبرستان کی مسماری پر پابندی برقرار
جسٹس محمد اعظم خان نے سی ڈی اے اور دیگر فریقوں کو جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دی، عدالت نے حکم عدولی پر جیل بھیجنے کی وارننگ دہرائی۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے بدھ کے روز سیکٹر ڈی-12 کی موضع سیری سرال میں واقع قبرستان کی مسماری روکنے کے حکم امتناعی کو برقرار رکھا اور خبردار کیا کہ حکم کی خلاف ورزی پر فوری توہینِ عدالت کی کارروائی کی جائے گی اور خلاف ورزی کرنے والے کو جیل بھیجا جائے گا۔ ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے یہ رپورٹ دی۔
جسٹس محمد اعظم خان نے فریقین کو جواب جمع کرانے کے لیے مزید مہلت دی، کیونکہ کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) اور دیگر فریقوں نے مقررہ وقت پر جواب داخل نہیں کیا۔ اسی بنیاد پر سماعت ملتوی کر دی گئی۔
ڈیلی ٹائمز کے مطابق سماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ عدالت کے حکم امتناعی کے باوجود ایک روز قبل اہلکار موقع پر کارروائی کے لیے پہنچے تھے۔ جسٹس اعظم خان نے اس پر سخت ناراضی کا اظہار کیا اور کہا کہ اگر دوبارہ ایسی خلاف ورزی ہوئی تو وہ ذمہ داروں کو فوری طور پر توہینِ عدالت کا مجرم قرار دے کر جیل بھیج دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ توہینِ عدالت کی مکمل چھ ماہ کی سزا سنائیں گے اور حکم کی خلاف ورزی کی صورت میں کوئی وضاحت نہیں سنیں گے۔
جج نے ڈیلی ٹائمز کے مطابق کہا: ”سب کو بتا دیں کہ حکم کی خلاف ورزی ہوئی تو میں انہیں جیل بھیج دوں گا۔“
کسی بھی رپورٹ میں درخواست گزار کا نام نہیں دیا گیا اور نہ ہی سی ڈی اے کا موقف درج ہے، کیونکہ اتھارٹی نے ابھی جواب جمع نہیں کرایا۔ قبرستان کے رقبے یا قبروں کی تعداد کا بھی کسی رپورٹ میں ذکر نہیں ہے۔
اسی روز اسلام آباد ہائی کورٹ کی دیگر کارروائی کے دوران ڈیلی ٹائمز کے مطابق عدالت نے وفاقی پولیس میں انسپکٹرز کی بھرتی روکنے سے متعلق درخواست خارج کر دی، کیونکہ درخواست گزاروں نے اپنی درخواست واپس لے لی۔ یہ درخواست ارشد علی اور 39 دیگر افراد نے دائر کی تھی اور جسٹس ایاز شوکت نے سماعت کی۔ وکیل عادل عزیز قاضی درخواست گزاروں کی جانب سے ڈی ایس پی لیگل ساجد چیمہ کے ہمراہ پیش ہوئے، جبکہ انسپکٹر جنرل کے دفتر کے ڈائریکٹر لیگل طاہر کاظم بھی سماعت میں موجود تھے۔
اسی طرح جسٹس ارباب محمد طاہر نے سیکرٹری داخلہ، ڈائریکٹر امیگریشن اور ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے کو نوٹس جاری کیے۔ یہ نوٹس ایک ایسی درخواست پر جاری کیے گئے جس میں بیرونِ ملک جانے والے شہریوں پر لگائی جانے والی ’غیر ضروری‘ سفری پابندیوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔ یہ اطلاع بھی ڈیلی ٹائمز نے دی۔ عدالت نے اٹارنی جنرل آف پاکستان کو بھی نوٹس جاری کیا تاکہ وہ کیس میں اٹھائے گئے قانونی سوالات پر مدد کر سکیں، اور ہدایت کی کہ سماعت دسمبر کے پہلے ہفتے میں مقرر کی جائے۔
یہ درخواست جوڈیشل ایکٹیوزم پینل نے دائر کی ہے اور وکیل اظہر صدیقی اس کی پیروی کر رہے ہیں۔ درخواست میں آئین کے آرٹیکل 199 کا حوالہ دیتے ہوئے پاسپورٹ رولز 2021 اور پروویژنل نیشنل آئیڈینٹی فکیشن لسٹ کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا مؤقف ہے کہ پاسپورٹ رولز کے رول 22(2)(b) کا دوسرا حصہ غیر قانونی ہے، شہریوں کو محکموں یا اداروں کی محض سفارش پر پاسپورٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالا جاتا ہے، اور درست پاسپورٹ، ویزا اور تصدیق شدہ ٹکٹ رکھنے والے مسافروں کو بغیر پیشگی اطلاع یا وجہ بتائے آف لوڈ کر دیا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔