اسلام آباد ہائی کورٹ: پی سی ایل سے نام نہ ہٹانے پر سیکرٹری داخلہ اور ڈی جیز طلب
جسٹس اعظم خان کی سنگل بینچ نے توہینِ عدالت کی درخواستوں پر انٹیریئر سیکرٹری، ایف آئی اے اور امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے ڈائریکٹر جنرلز کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا۔

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے پیر کے روز سیکرٹری داخلہ، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل اور ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا ہے، کیونکہ عدالتی احکامات کے باوجود شہریوں کے نام پاسپورٹ کنٹرول لسٹ (پی سی ایل) سے نہیں ہٹائے گئے۔
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق جسٹس اعظم خان پر مشتمل سنگل بنچ نے اس معاملے پر دائر توہینِ عدالت کی درخواستوں کی سماعت کی۔
عدالت نے ستمبر میں ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا کو ہدایت کی تھی کہ وہ پی سی ایل سے نام ہٹانے کے احکامات اگلی سماعت تک نافذ کریں۔
پیر کی کارروائی میں عدالت نے سیکرٹری داخلہ احمد رضا سرور، ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل عثمان انور اور ڈائریکٹر جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس محمد علی رندھاوا کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دیا۔
امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے ایک ڈپٹی ڈائریکٹر نے عدالت کو بتایا کہ معاملہ ایک ریویو کمیٹی کے پاس زیرِ التوا ہے۔ جسٹس اعظم خان نے اس وضاحت پر سوال اٹھایا اور پوچھا کہ جب معاملہ محض کمیٹی کے پاس ہو تو عدالت اپنے حکم کی تعمیل نہ ہونے پر کیا جواب دے۔
محکمے کے افسران نے عدالت کو بتایا کہ کمیٹی ایسے مقدمات کے جائزے کے طریقۂ کار کا حصہ ہے۔
جج نے یہ سوال بھی کیا کہ عدالت کے حکم کے بعد کون سا طریقۂ کار موجود ہے، اور اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو خبردار کیا کہ اگر تعمیل نہ ہونے پر ایک اور توہینِ عدالت کی درخواست دائر ہوئی تو حکام کو اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔ عدالت نے ڈائریکٹر جنرل کو طلب کرنے کا حکم دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ معاملے کو اس انداز میں نہیں چلایا جا سکتا۔
مقدمہ درخواست گزار وجاہت حسین سے متعلق ہے، جن کا نام عدالت نے پاسپورٹ کنٹرول لسٹ سے ہٹانے کا حکم دیا تھا۔
پاسپورٹ کنٹرول لسٹ ڈائریکٹوریٹ جنرل امیگریشن اینڈ پاسپورٹس کے پاس رکھی جاتی ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ زیرِ سماعت درخواستوں میں کتنے ناموں کا معاملہ ہے، درخواست گزاروں پر کیا الزام ہے، یا عدالت کی اگلی سماعت کب ہوگی۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔