بھارت کا پاکستان سے مطالبہ: سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کارروائی کریں
دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پریس ٹی وی نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی کو بڑھتا ہوا قرار دیا ہے۔
بھارتی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے، تب ہی دنیا اس کی باتوں پر یقین کرے گی۔ دی ہندو کی رپورٹ کے مطابق وزارت کا یہ بیان مکمل متن کے بغیر شائع ہوا تاہم اخبار کی سرخی میں وزارت کا قول نقل کیا گیا ہے کہ پاکستان کو سرحد پار دہشت گردی کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے اس سے پہلے کہ دنیا اس کی باتوں پر یقین کرے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پریس ٹی وی نے رپورٹ کیا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی بڑھ رہی ہے اور سوال اٹھایا کہ کیا سفارت کاری فوجی رگڑ سے آگے نکل سکتی ہے۔ پریس ٹی وی نے دستیاب مواد میں کسی مخصوص واقعے کا نام نہیں لیا تاہم اس کی سرخی نے صورتحال کو سفارتی کوششوں اور فوجی ردعمل کے درمیان مقابلے کے طور پر پیش کیا۔
کسی بھی ذریعے نے بھارتی وزارت کے بیان کی تاریخ یا مقام فراہم نہیں کیا۔ دی ہندو کی رپورٹ منگل کو شائع ہوئی اور پریس ٹی وی کی تحریر بھی اسی دن سامنے آئی۔
بھارتی حکام طویل عرصے سے پاکستان پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ بھارت میں حملے کرنے والے مسلح گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔ اسلام آباد اس الزام کی تردید کرتا ہے اور کہتا ہے کہ بھارت پاکستان کے صوبے بلوچستان میں تشدد کی سرپرستی کرتا ہے۔ پاکستان نے افغانستان کی طالبان حکومت پر بھی دباؤ ڈالا ہے کہ وہ تحریک طالبان پاکستان کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی کرے جن کے بارے میں اسلام آباد کا کہنا ہے کہ وہ افغان سرزمین سے حملے کرتے ہیں۔ کابل یہ الزام مسترد کرتا ہے اور کہتا ہے کہ افغان سرزمین پر پاکستانی حملے اس کی خودمختاری کی خلاف ورزی ہیں۔
دونوں رپورٹیں پاکستان کے انسداد دہشت گردی کے ریکارڈ کے گرد سفارتی رگڑ کو نمایاں کرتی ہیں۔ دی ہندو کے مطابق بھارت کا مطالبہ بتاتا ہے کہ نئی دہلی پاکستانی یقین دہانیوں سے مطمئن نہیں ہے۔ پریس ٹی وی کی پاکستان افغانستان کشیدگی پر توجہ ایک دوسرے محاذ کی طرف اشارہ کرتی ہے جہاں حالیہ مہینوں میں فوجی سرگرمیاں بڑھی ہیں۔
اسکردو ٹائمز کو دستیاب رپورٹوں میں کسی پاکستانی یا افغان عہدیدار نے بھارتی وزارت کے بیان پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔
یہ کہانی مزید تفصیلات جاری ہونے پر اپ ڈیٹ کی جائے گی۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔