مواد پر جائیں
سکردو ٹائمز

دنیا کی چھت سے

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے مقدمے کا فیصلہ ملتوی

صفائی کے وکیل اعمل خان مینڈوخیل نے عدالت سے استدعا کی کہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت درخواستوں کا فیصلہ آنے تک کوئی حکم نہ سنایا جائے۔

سکردو ٹائمز ڈیسک2 منٹ کا مطالعہ
اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت: ایمان مزاری اور ہادی چٹھہ کے مقدمے کا فیصلہ ملتوی

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے انسانی حقوق کے وکلاء ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف مقدمے میں فیصلہ ملتوی کر دیا ہے۔ یہ مقدمہ ایک بین الاقوامی کرکٹ ٹیم کے دورے کے موقع پر سیکیورٹی بیریئرز ہٹانے اور مقررہ راستہ متاثر کرنے کے الزام سے متعلق ہے۔

جمعرات کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں جج طاہر عباس سپرا کی صدارت میں سماعت ہوئی۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق عدالت نے کارروائی ایک بجے تک ملتوی کی اور اسی وقت فیصلہ سنانے کا اعلان کیا، جبکہ ڈان کی رپورٹ کے مطابق فیصلہ ملتوی کر دیا گیا۔

سماعت میں استغاثہ اور صفائی دونوں نے حتمی دلائل مکمل کیے۔ استغاثہ کی جانب سے راجہ نوید حسین کیانی نے اپنی بحث مکمل کی۔ صفائی کے وکیل اعمل خان مینڈوخیل نے تحریری درخواست جمع کرائی کہ سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت درخواستوں کا فیصلہ آنے تک عدالت اپنا فیصلہ نہ سنائے۔ ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق مینڈوخیل نے عدالت کو بتایا، ’’جب تک ہماری درخواستیں نہیں سنی جاتیں، عدالت قانونی طور پر اپنا فیصلہ نہیں سنا سکتی۔‘‘ انہوں نے کہا کہ مقدمہ منتقلی کی درخواست بھی ہائی کورٹ میں زیرِ التوا ہے۔

27 اکتوبر کو اڈیالہ جیل میں مقدمے کی کارروائی مکمل ہوئی تھی، جب دونوں ملزمان نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 342 کے تحت اپنے بیانات ریکارڈ کرائے اور استغاثہ نے حتمی دلائل ختم کیے۔ 7 اکتوبر کو الزامات عائد کیے گئے تھے اور استغاثہ کے ساتوں گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ ملزمان کی عدالت میں پیشی اور وکلاء کی رسائی سے متعلق اختلافات کے بعد مقدمے کی سماعت جیل میں منتقل کی گئی تھی۔

اسی ہفتے دونوں نے مقدمے کی کارروائی روکنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ ان کا موقف ہے کہ فوری طور پر کارروائی روکیے بغیر ہائی کورٹ میں ان کی درخواست بے معنی ہو جائے گی، ٹرائل کورٹ نے جلد بازی سے اور مناسب وقت دیے بغیر کارروائی شروع کی اور ایک ہی دن میں استغاثہ کے گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سیکیورٹی بیریئرز ہٹانا دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا اور یہ کارروائی انہیں ستانے اور سیاسی انتقام کا نشانہ بنانے کے لیے کی جا رہی ہے تاکہ وہ قید میں رہیں۔

اسی ماہ کے شروع میں انہوں نے ہائی کورٹ سے مقدمے کی کارروائی معطل کرنے کی استدعا کی تھی اور الزام لگایا تھا کہ فرد جرم عائد کرتے وقت طریقہ کار کی خلاف ورزی کی گئی، وہ جسمانی طور پر موجود نہیں تھے اور متعلقہ دستاویزات کی نقول انہیں فراہم نہیں کی گئیں۔ ہائی کورٹ نے دہشت گردی کی دفعات ہٹانے کی درخواستوں پر عبوری حکم دینے سے انکار کیا، تاہم کارروائی معطل کرنے کی الگ درخواست پر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیے۔

جنوری میں ان دونوں کو سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق متعدد الزامات میں مجموعی طور پر 17 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی، جنہیں استغاثہ نے سائبر کرائم قوانین کے تحت ریاست مخالف بیانیہ قرار دیا تھا۔ 17 ستمبر کو سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت اور سزا معطل کرنے کے بعد انہیں دوبارہ گرفتار کیا گیا اور کوہسار پولیس اسٹیشن میں درج مقدمے کے سلسلے میں اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پیش کیا گیا۔ پولیس نے 30 روزہ جسمانی ریمانڈ مانگا، مگر جج ابو الحسن محمد ذوالقرنین نے درخواست مسترد کر کے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر بھیج دیا اور کہا کہ ایف آئی آر میں کسی ملزم کے نام کوئی ہتھیار منسوب نہیں کیا گیا۔

صحتاسلام آباد

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن

ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

سیاستاسلام آباد

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع

جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

صحتاسلام آباد

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم

چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سیاستاسلام آباد

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم

30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔