اسلام آباد عدالت کا ٹیکوانڈو فیڈریشن معاملے میں 101 ملین روپے کی لین دین پر سوال
ایڈیشنل سیشن جج ممتاز علی نے درخواست گزار کے شناختی کارڈ اور ٹیکس نمبر کے مبینہ استعمال کو سنگین قرار دیا اور شواہد ایف بی آر کو پیش کرنے کا مشورہ دیا۔

اسلام آباد کی ایک عدالت نے ایک ایسے بینک اکاؤنٹ سے 101 ملین روپے سے زائد کی لین دین کے الزامات کو سنگین قرار دیا ہے جو مبینہ طور پر درخواست گزار کے نام پر ان کی معلومات کے بغیر کھولا گیا تھا۔ ڈیلی ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ اس معاملے کے بعد پاکستان ٹیکوانڈو فیڈریشن کی مالی شفافیت پر سنجیدہ سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔
ڈیلی ٹائمز اور دی نیوز کی رپورٹوں کے مطابق اسلام آباد ویسٹ کے ایڈیشنل سیشن جج ممتاز علی نے محمد الیاس آفریدی کی درخواست پر یہ ریمارکس تحریری حکم نامے میں درج کیے۔ حکم نامے کے مطابق درخواست گزار کے نام پر اکاؤنٹ کھولا گیا اور مالی سال 2023-24 اور 2024-25 کے دوران اس سے 101 ملین روپے سے زائد کی لین دین کی گئی، مبینہ طور پر ان کی معلومات کے بغیر۔
عدالت نے کہا کہ درخواست گزار کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ اور قومی ٹیکس نمبر کے مبینہ استعمال سے متعلق الزامات سنگین نوعیت کے حامل ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سے بھی رجوع کیا تھا اور یہ الزام لگایا کہ ان کی شکایت پر کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ حکم نامے میں بیان کردہ ایف آئی اے کی رپورٹ کے مطابق شکایت پر شروع کی گئی انکوائری بند کر دی گئی ہے۔
عدالت نے رائے دی کہ اگر یہ لین دین ٹیکس سے بچنے کے لیے کیے گئے تو معاملہ ٹیکس فراڈ کے دائرے میں آ سکتا ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے پاس موجود شواہد فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو پیش کریں، جو اس معاملے کی جانچ اور قانون کے مطابق کارروائی کا مجاز ہے تاکہ متنازع لین دین اور ان کے شناختی کارڈ اور ٹیکس رجسٹریشن کی تفصیلات کے مبینہ استعمال کی مزید جانچ ہو سکے۔
رپورٹوں میں فیڈریشن کی جانب سے ان الزامات پر کوئی ردعمل شامل نہیں تھا، اور حکم نامے میں جس انداز میں معاملہ بیان ہوا ہے وہ درخواست سے متعلق ہے، فیڈریشن یا اس کے عہدیداران کے خلاف کوئی حتمی نتیجہ نہیں۔
دونوں اخبارات کے مطابق کسی بھی نامزد فرد کے خلاف کوئی فوجداری الزام سامنے نہیں آیا۔ درخواست گزار کی شکایت اب ایف بی آر کے پاس جانچ کے لیے ہے، جبکہ ایف آئی اے میں ان کی پرانی شکایت کی فائل بند حالت میں ہے۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔