اسلام آباد میں پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی کے احتجاج سے قبل 1000 سے زائد کنٹینرز تعینات
وزارت داخلہ نے ابتدائی طور پر 40 کروڑ روپے جاری کیے ہیں، جبکہ ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن نے کنٹینرز کی ادائیگی نہ ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

اسلام آباد انتظامیہ نے پاکستان تحریک انصاف کے 27 ستمبر کو ہونے والے لانگ مارچ اور پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کے احتجاج سے قبل دارالحکومت کی اہم شاہراہوں پر 1000 سے زائد کنٹینرز تعینات کر دیے ہیں۔
اگست 2024 میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ڈی چوک میں احتجاج کا این او سی منسوخ ہونے کے خلاف پی ٹی آئی کی توہین عدالت درخواست کی سماعت کے دوران اسلام آباد کو 'کنٹینر سٹی' کہا تھا، جس کے بعد یہ اصطلاح میڈیا میں عام ہو گئی۔
اسلام آباد پولیس کے ایک اہلکار نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ اس وقت شہر میں 1000 سے زائد کنٹینرز مختلف شاہراہوں کے کنارے رکھے گئے ہیں، جن میں ریڈ زون میں رکھے گئے کنٹینرز بھی شامل ہیں۔ ریڈ زون، جس میں سفارتی انکلیو، وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر، پارلیمنٹ ہاؤس، اسلام آباد ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ شامل ہیں، کو 27 ستمبر سے پہلے مکمل سیل کر دیا جائے گا۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے گزشتہ جمعہ کو پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد کسی کو بھی اسلام آباد میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق خالی کنٹینرز میں ریت، مٹی اور تعمیراتی سامان بھرا جا رہا ہے تاکہ انہیں آسانی سے نہ ہلایا جا سکے، جبکہ سفارتی انکلیو کے قریب بعض کنٹینرز کو ویلڈ بھی کیا گیا ہے۔
امن و امان برقرار رکھنے کے لیے ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے پنجاب اور سندھ سے 15 ہزار سے زائد اہلکار طلب کیے ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق مقامی میڈیا نے بتایا کہ اہلکاروں کو سرکاری سکولوں میں ٹھہرایا جائے گا اور تعلیمی ادارے چند روز کے لیے بند رہیں گے، تاہم وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ تعلیمی ادارے بند کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بتایا کہ وزارت داخلہ نے ابتدائی طور پر 40 کروڑ روپے جاری کیے ہیں۔ زیادہ تر کنٹینرز کرائے پر لیے گئے ہیں؛ 40 فٹ کنٹینر کا یومیہ کرایہ 20 ہزار روپے اور چھوٹے کنٹینر کا 10 ہزار روپے ہے، اور احتجاج کے بعد مالکان کو استعمال کے دنوں کے حساب سے ادائیگی کی جائے گی۔
آل پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن کے صدر اویس چوہدری نے دعویٰ کیا کہ اب تک 1000 سے زائد کنٹینرز ضبط کیے جا چکے ہیں اور پنجاب کے علاقوں جاتلی، منڈی بہاؤالدین اور گوجرانوالہ سے بھی سینکڑوں کنٹینرز لیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ برسوں بشمول 2022 کے احتجاج کے بعد کوئی ادائیگی نہیں کی گئی۔ طلال چوہدری نے اس دعوے کو جھوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ کنٹینرز کے حصول اور کرایے کا باقاعدہ طریقہ کار موجود ہے جس کے تحت ایسوسی ایشن کنٹینرز فراہم کرتی ہے اور کرایہ وصول کرتی ہے۔
قومی اسمبلی میں 19 مارچ 2025 کو پیش کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں احتجاجی مظاہروں سے نمٹنے پر ایک ارب 35 کروڑ روپے سے زائد خرچ ہوئے، جن میں مالی سال 2022-23 میں 72 کروڑ 40 لاکھ روپے سب سے زیادہ تھے۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔