اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈیجیٹل مواد کے قوانین کے نفاذ پر رپورٹ طلب کر لی
عدالت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی تعمیل میں خلا کی نشاندہی کی ہے، تاہم بینچ، متعلقہ ادارے اور رپورٹ کی مدت کا ذکر دستیاب خبر میں نہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈیجیٹل مواد سے متعلق پاکستان کے قوانین کے نفاذ پر رپورٹ طلب کی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی جانب سے ان قوانین کی تعمیل میں موجود خلا کی نشاندہی کی ہے۔ یہ اطلاع دی نیشن کی خبر میں دی گئی ہے۔
اخبار کے مطابق عدالت نے نفاذ سے متعلق رپورٹ مانگی اور سوشل میڈیا کی تعمیل میں کوتاہیوں کی نشاندہی کی۔ تاہم خبر میں اس بینچ کا نام نہیں بتایا گیا جس نے یہ حکم جاری کیا، نہ یہ واضح کیا گیا کہ رپورٹ کس محکمے یا ریگولیٹر سے طلب کی گئی ہے، اور نہ ہی جمع کرانے کی کوئی تاریخ دی گئی ہے۔
معاملہ دراصل اس نظام سے جڑا ہے جس کے ذریعے پاکستان میں آن لائن مواد کی نگرانی کی جاتی ہے۔ Prevention of Electronic Crimes Act 2016 وہ بنیادی قانون ہے جو غیر قانونی آن لائن مواد سے متعلق ہے، جبکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی ویب سائٹس، سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور دیگر آن لائن مواد کے خلاف شکایات پر کارروائی کرتی ہے، جس میں مواد کو بلاک کرنے یا ہٹانے کی درخواستیں بھی شامل ہیں۔ عدالت نے اب یہ معلوم کرنے کو کہا ہے کہ یہ فریم ورک کس حد تک یکساں طور پر لاگو ہوتا ہے اور پلیٹ فارمز مواد ہٹانے اور رپورٹنگ کی شرائط کتنی پوری کرتے ہیں۔
خبر کے مطابق یہ حکم کسی ایک متنازع پوسٹ یا اکاؤنٹ کے بجائے تمام پلیٹ فارمز کی تعمیل سے متعلق ہے۔
یہ معاملہ پاکستان میں آن لائن اظہارِ رائے پر جاری طویل بحث کے پس منظر میں ہے۔ ریگولیٹرز اور حکام پابندیوں کو غیر قانونی اور نقصان دہ مواد کے خلاف ضروری قرار دیتے رہے ہیں، جبکہ ڈیجیٹل حقوق کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ بلاک کرنے اور مواد ہٹانے کے وسیع اختیارات غلط استعمال کا امکان رکھتے ہیں اور ان میں شفافیت کم ہے۔
عام صارفین کے لیے یہ فیصلے اسی لیے اہم ہیں کہ وہ طے کرتے ہیں کہ کون سے اکاؤنٹس، صفحات اور ویڈیوز ملک میں قابلِ رسائی رہیں گے اور ہتک آمیز یا غیر قانونی مواد کی شکایات پر کتنی تیزی سے کارروائی ہوگی۔
پاکستانی عدالتیں معلومات کے لیے ریگولیٹرز پر دباؤ ڈالنے کے لیے تحریری رپورٹس کا راستہ اکثر استعمال کرتی ہیں۔ رپورٹ جمع ہونے کے بعد وہ مقدمے کے ریکارڈ کا حصہ بنتی ہے اور بینچ کے سامنے پیش کی جاتی ہے، جس کے بعد ریگولیٹر یا متعلقہ پلیٹ فارمز کے لیے مزید ہدایات جاری ہو سکتی ہیں۔ دی نیشن کی خبر میں یہ نہیں بتایا گیا کہ معاملہ اگلی بار کب سماعت میں آئے گا، اور نہ یہ واضح کیا گیا کہ عدالت کی تشویش کا تعلق کس پلیٹ فارم یا قانون کی کس شق سے ہے۔

اسلام آباد میں ٹیلی سرجری سے پہلا روبوٹک گال بلیڈر آپریشن
ایسو سی ایٹڈ پریس آف پاکستان نے اسے دارالحکومت کا پہلا آپریشن قرار دیا جبکہ اردو پوائنٹ نے ملک کا پہلا کہا، اور کسی رپورٹ میں ہسپتال، ڈاکٹروں یا مریض کا نام نہیں بتایا گیا

اسلام آباد ہائی کورٹ: بریت پانے والوں کے کردار سرٹیفکیٹ پر مقدمے کا ذکر ممنوع
جسٹس ایاز شوکت نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس کو ہدایت دی کہ ایسی ایف آئی آرز سرٹیفکیٹ میں درج نہ ہوں جن کا انجام حتمی بریت ہو

وزیراعظم کا پاک چین فرینڈشپ ہسپتال میں مفت علاج کا حکم
چین کے تحفے میں ملنے والا 182 بستروں کا یہ ہسپتال برسوں بند رہا، اب انڈس ہسپتال اینڈ ہیلتھ نیٹ ورک اسے چلائے گا اور علاج کا خرچ حکومت اٹھائے گی۔

سی ڈی اے کا فضل الرحمان کو 15 دن میں غیر قانونی تعمیرات ہٹانے کا حکم
30 اکتوبر کے نوٹس میں سیکٹر G-6/4 کے پلاٹ پر غیر مجاز گارڈ پوسٹ، سی ڈی اے کی زمین پر جنریٹر اور لازمی بفروں میں تعمیر کو خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔