پیٹرولیم لیوی پر جماعت اسلامی کا نومبر کے وسط میں اسلام آباد مارچ کی دھمکی
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ حکومت لیوی ختم کرے گی تو مہم رکے گی؛ پارٹی پٹرول پر 114 روپے اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر لیوی ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔
اسلام آباد: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے پیر کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر وزیرِ اعظم شہباز شریف پیٹرولیم لیوی ختم نہیں کریں گے تو پارٹی نومبر کے وسط میں اسلام آباد کی طرف مارچ کرے گی۔ یہ اطلاع ڈان نے دی ہے۔
پارٹی دو ماہ سے زیادہ عرصے سے مطالبہ کر رہی ہے کہ حکومت یہ لیوی واپس لے، جس کا تخمینہ پارٹی پٹرول پر 114 روپے فی لیٹر اور ڈیزل پر 100 روپے فی لیٹر لگاتی ہے۔ ڈان کے مطابق جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ مارچ سے مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی کے باعث ایندھن کی مجموعی قیمتیں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں۔
ایکسپریس ٹریبیون نے بتایا کہ جماعت اسلامی کا موقف ہے کہ وہ اپنی مہم اس وقت تک جاری رکھے گی جب تک حکومت لیوی ختم نہیں کرتی۔ ٹریبیون کے مطابق پارٹی نے خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا۔ کسی بھی رپورٹ میں اس مطالبے کا قانونی یا انتظامی پس منظر بیان نہیں کیا گیا۔
ڈان کے مطابق پارٹی نے ایک روز پہلے بتایا تھا کہ وفاقی وزیرِ منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزیرِ اعظم کے معاونِ خصوصی رانا ثناء اللہ نے جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ سے رابطہ کیا اور ملاقات کا فیصلہ ہوا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ملاقات کب ہوگی اور اس کا ایجنڈا کیا ہوگا۔ ڈان کے مطابق پارٹی کے بیان کے مطابق مارچ کی دھمکی ان رابطوں کے ایک روز بعد دی گئی۔
کسی بھی رپورٹ میں وزیرِ اعظم ہاؤس یا وزارتِ خزانہ کی جانب سے نومبر کے وسط کی اس ڈیڈ لائن پر کوئی ردِ عمل موجود نہیں تھا۔
پیٹرولیم لیوی فی لیٹر وہ عائد ہے جو وفاقی حکومت مقرر کرتی ہے اور جو پٹرول اور ڈیزل کی خوردہ قیمت میں شامل ہوتا ہے، اسی لیے جماعت اسلامی کا مطالبہ وفاق سے ہے۔
آج نیوز اور آج انگلش ٹی وی نے پیر کے روز اپنی صبح نو بجے کی سرخیوں میں پیٹرولیم لیوی، ایندھن کے ٹیکس اور سود کی شرح شامل کی، تاہم جماعت اسلامی کے اس اعلان کی کوئی تفصیل نہیں دی۔
رپورٹوں میں مجوزہ مارچ کی تاریخ، راستہ یا تعداد نہیں بتائی گئی اور پارٹی نے یہ بھی نہیں کہا کہ مارچ کتنا عرصہ جاری رہے گا۔ نومبر کا وسط اس انتباہ کے تقریباً تین ہفتے بعد پڑتا ہے۔

الیکشن کمیشن نے کوئٹہ اور کھاریاں کنٹونمنٹ بورڈز کی حد بندی کا شیڈول جاری کر دیا
کوئٹہ کو کلاس-II سے کلاس-I اور کھاریاں کو کلاس-III سے کلاس-II میں منتقل کیا گیا، کوئٹہ میں 10 اور کھاریاں میں پانچ وارڈز مقرر، حد بندی کا عمل نومبر سے جنوری 2027 تک چلے گا۔

وزارت اطلاعات نے افغان طالبان کی ناکامی کو کشیدگی کی بنیادی وجہ قرار دیا
وزارت نے کہا کہ کابل دہشت گرد گروہوں کو افغان سرزمین استعمال کرنے سے روکنے کی ذمہ داری سے انکار نہیں کر سکتا، اور سرحد پار دہشت گردی معمول کے تعلقات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

تارڑ کا قومی سائبر سیکیورٹی اور سوشل میڈیا آگاہی کونسل بنانے کی تجویز
وزیر اطلاعات نے پی ٹی اے کے سائبر سیکیورٹی آگاہی ہفتے میں ہم آہنگی والا ادارہ بنانے کی تجویز دی اور نصاب میں ڈیجیٹل خواندگی کی وکالت کی۔

نومبر سے موبائل ایپ جعلی دوا کی نشاندہی کرے گی، وزیر صحت
مصطفیٰ کمال نے قومی اسمبلی میں بتایا کہ 2030 تک پاکستان کو تمام ویکسین اپنے وسائل سے خریدنے ہوں گی، جس پر تقریباً 1.2 ارب ڈالر لاگت آئے گی۔